انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 21

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۲۱ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر مخالفت میں سرگرم ہو گئے۔پس یہ خوبی تو عربوں کے اندر تھی مگر عزت نفس کے لئے تھی خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے نہ تھی مگر اسلام دنیا میں اخلاق فاضلہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔اسلام کہتا ہے میں تمہیں اس لئے اچھے کاموں کا حکم دیتا ہوں کہ تم نیک ہو جاؤ اسلام کہتا ہے میں تمہیں اس لئے اچھے کاموں کا حکم دیتا ہوں تا تمہاری روحانیت بلند ہو جائے اور اسلام کہتا ہے میں تمہیں اس لئے اچھے کاموں کا حکم دیتا ہوں کہ تم اخلاق فاضلہ کے حامل ہو جاؤ۔مگر عربوں میں یہ بات نہ تھی وہ اس لئے مہمان نوازی کرتے تھے کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے۔وہ اس لئے پناہ دیتے تھے کہ ہم معزز قرار پائیں پھر عربوں کے اندر بعض برائیاں بھی پائی جاتی تھیں اور میں نے اپنی بعض کتابوں میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ عربوں میں اپنی لڑکیاں مار دینے کا رواج تھا اور قرآن کریم میں بھی اس بات کا ذکر آتا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سارے عربوں میں یہ رواج تھا اگر سب میں یہ رواج ہوتا تو نسل کیسے چلتی اور بچے کس طرح پیدا ہوتے اور وہ شادیاں کس طرح کرتے ، اگر سارے ہی اپنی لڑکیوں کو مار دیتے تو کچھ عرصہ کے بعد یقیناً ان کی نسل ختم ہو جاتی۔پس سارے عربوں میں یہ رواج نہ تھا بلکہ صرف دو تین قبیلوں میں یہ بات پائی جاتی تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو قتل کر دیتے تھے اور اس کا محرک یہ امر ہوتا تھا کہ ہم اتنے بڑے آدمی ہیں یا اتنی وجاہت رکھتے ہیں کہ ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے ہم کسی ایسے شخص کو رشتہ دیں جو ہم سے کم وجاہت رکھتا ہو۔یہ جذبہ تھا جس کے ماتحت وہ بیٹیوں کو قتل کر دیتے تھے اور یہ کام صرف وہی لوگ کرتے تھے جو اپنے آپ کو بہت بڑا امیر کبیر یا خاندانی لحاظ سے رُعب اور دبدبے والا یا اثر و رسوخ کے لحاظ سے بڑا آدمی یا سیاست اور تدبیر کے لحاظ سے سیاستدان اور مد بر سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ کسی کا ہماری بیٹیوں کا خاوند بننا ہماری ہتک ہے۔مگر وہ رواج ان میں شاذ تھا عام نہ تھا اور جب یہ شاذ تھا تو ساری قوم کی طرف یہ فعل کس طرح منسوب ہوسکتا ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ باقی عرب جو یہ فعل نہیں کرتے تھے وہ ان کے اس فعل کو کس نگاہ سے دیکھتے تھے اگر باقی عرب یہ کہتے کہ یہ فعل بُرا ہے تو واقعی ساری قوم کی طرف یہ بات منسوب نہیں ہو سکتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو عرب اس پر عامل نہ تھے وہ بھی دوسروں کے اس فعل کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور وہ بُر انہیں مناتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ یہ بہت اچھا فعل ہے