انوارالعلوم (جلد 19) — Page 386
۳۸۶ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء انوار العلوم جلد ۱۹ پاکستان ایک بہت بڑی طاقت بن سکتا ہے۔میری اپنی سکیم یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیئے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں مل کر اتفاق کے ساتھ بغیر اس کے کہ ان کی آزادی میں کوئی خلل واقع ہو کام کریں تا کہ وہ حقیقی معنوں میں ترقی کر سکیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سکھوں نے ہماری جائدادوں کو لوٹ لیا ، ہمارے عزیز ترین وجود سکھوں نے مار دیئے اور ان کے ہاتھوں ہمیں وہ دکھ پہنچا جس کی تاریخ میں ہمیں کوئی مثال نظر نہیں آتی لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہندوستان پھٹ گیا اور تقسیم ہو گیا۔تقسیم قسیم ہندوستان کے وقت کیفیت جب ہندوستان کو تقسیم کیا جانے لگا اس وقت میرا دل تقسیم کے خیال سے کانپنے لگ گیا لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کا دوٹکڑوں میں بٹ جانا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیت کے ماتحت ہوا ہے۔اُس وقت ضرورت تھی اس بات کی کہ مسلمانوں کو ایک آزاد ملک ملتا جس میں وہ بغیر کسی دباؤ کے آزادانہ رنگ میں ترقی کر سکتے۔اور وہ ترقی نہیں کر سکتے تھے جب تک اس ملک کو پھاڑا نہ جاتا لیکن اب جبکہ انہیں آزادی مل چکی ہے وہ ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھا سکتے ہیں۔گھروں میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں ایک گھر ہوتا ہے مگر اس میں پانچ الگ الگ چولہے بنے ہوئے ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنی الگ الگ روٹی پکا رہا ہوتا ہے۔اگر پانچ زمیندار ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہو سکتے ہیں تو ہم بھی اگر الگ الگ ہو گئے ہیں اور ایک حصہ کا نام ہم نے پاکستان اور ایک کا نام انڈین یونین رکھ دیا ہے تو ہمیں ضرورت کیا ہے کہ وہ ملک جس میں ہم پیدا ہوئے اور جس میں ہمارے باپ دادا نسلاً بعد نسل رہتے چلے آئے اُس کے متعلق ہم یہ کہیں کہ وہ ختم ہو گیا۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ میں ہندوستان کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ثانوی وطن بے شک پاکستان ہومگر میرا اصل وطن وہی ہندوستان ہے جس میں میں نے اپنی آنکھیں کھولیں ، جس میں میں جوان ہوا اور جس میں میں نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ گزارا۔پاکستان کا بننا ضروری تھا ہمیں ضرورت تھی کہ اس ملک کو پھاڑا جاتا کیونکہ ہندو ہمارا حق ہمیں دینے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن جب ہمارا حق