انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 376

انوار العلوم جلد ۱۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء میں پکڑا دیا۔اب یہ حیران ہو کر سوچنے لگی کہ میں تھال کو پیچھے کس طرح لاؤں درمیان میں ستون ہے اور میرا ایک ہاتھ ایک طرف سے رُکا ہوا ہے اور دوسرا ہاتھ دوسری طرف سے رُکا ہوا ہے اس نے بہت سوچا مگر اسے اس مشکل کا کوئی حل نظر نہ آیا۔آخر گھبرا کر وہ رونے لگی تھوڑی دیر گزری کہ اس کی ساس اور خسر بھی آگئے وہ بھی ویسے ہی عقلمند تھے جیسے ان کی بہو عقلمند تھی۔انہوں نے بھی اپنی بہو کو اس مشکل میں دیکھ کر رونا شروع کر دیا کہ اب تو بہو کے ہاتھ کاٹنے پڑیں گے اس کے ہوا اور کیا علاج ہو سکتا ہے۔آخر کسی نے انہیں کہا کہ مشکل تو بڑی ہے لیکن لال بجھکڑہ کو بلا ؤ ممکن ہے وہ اس مشکل کا کوئی حل تجویز کر لے۔لال بجھکڑ آیا اور اس نے یہ نظارہ دیکھ کر تھوڑی دیر تک اپنا سر پکڑا۔کچھ دیر غور کرتا رہا اور پھر کہنے لگا بات تو خطر ناک ہے لیکن میں نے اس کا حل تجویر کر لیا ہے۔تم چھت تو ڑو اور ستون کی اینٹیں علیحدہ کرنی شروع کر دو جب اینٹیں اُتارتے اُتارتے اس کے ہاتھ تک ستون الگ ہو جائے تو اس کے ہاتھوں سے تھال لے لینا۔اُنہوں نے جب یہ تجویز سنی تو بہت خوش ہوئے۔اسے نذرانہ پیش کیا اور اس کی تجویز پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔کوئی باہر سے آیا ہوا آدمی بھی یہ تمام باتیں سن رہا تھا اس نے کہا بیوقوفو! یہ کیا کرنے لگے ہو آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے تھال کیوں نہیں لے لیتے۔تھال لے لو اس کے ہاتھ خود بخود پیچھے آجائیں گے۔لال بجھکڑ نے یہ بات سنی تو وہ غصہ سے آنکھیں سرخ کر کے کہنے لگا اس میں اُستادی کون سی ہوئی ، اُستادی تو اسی بات میں ہے جو میں نے بتائی ہے۔یہی حال بعض مسلمانوں کا ہے۔چالیس لاکھ انسان کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر اُستادیاں سوچی جا رہی ہیں اور جو سیدھے سادھے حل ہو سکتے ہیں اُن کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کو اپنے پرانے خیالات پھیلانے کا کوئی موقع نہیں ملتا تھا اب اُنہوں نے سمجھا کہ یہ موقع اپنے خیالات کو پھیلانے کیلئے موزوں ہے۔اس طرح وہ مشکلات دور کرنے کی بجائے اپنے ہی خیالات پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ سیدھی سادی بات ہے آدمی بھی موجود ہیں ، روزی کمانے کے ذرائع بھی ہمیں معلوم ہیں ، اعداد و شمار بھی ہمیں معلوم ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم کا غذ اور قلم دوات لے کر بیٹھیں اور دیکھیں کہ حساب بنتا ہے یا نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ مشرقی پنجاب اور ریاستوں میں ۵۶ لاکھ مسلمان تھے۔پنجاب کی ساری