انوارالعلوم (جلد 19) — Page 372
انوار العلوم جلد ۱۹ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء امید ہے کہ وہ بھی جلدی مکمل ہو جائے گی۔فی الحال پہلی جلد چند بڑے بڑے آدمیوں کو تحفہ بھجوائی گئی ہے جن میں وائسرائے ، گاندھی جی اور نواب صاحب بھو پال شامل ہیں اسی طرح مسز الز بتھ کی شادی کے موقع پر انہیں قرآن کریم کی یہ جلد تحفہ کے طور پر پیش کی گئی اور انہوں نے اس کا شکر یہ ادا کیا۔بعض اور لوگ بھی جنہوں نے ہمارے اس کام میں دلچسپی لی تھی ان کو یہ کتاب بھجوائی گئی ہے مثلاً مسٹر پسٹن جو سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر ہیں ان کو یہ جلد دی گئی۔اسی طرح مصری وفد کو چند کتا بیں دی گئیں ہیں ، غرض آٹھ دس کتا میں اسی طرح تقسیم ہوئی ہیں۔زیادہ تر یورپ اور امریکہ بھجوائی جائیں گی مگر ابھی جہاز نہیں ملتا۔جہاز والے کہتے ہیں کہ چھ ماہ پہلے کا سامان ہمارے ہاں بگ ہے جب تک وہ سامان نہ بھجوا لیا جائے کوئی اور سامان نہیں لیا جا سکتا۔بہر حال جب وقت آئے گا یورپ اور امریکہ میں بھی کتابیں بھجوا دی جائیں گی۔بچوں کی تعلیم تیسری بات میں جماعت کو یہ کہنا چاہتا ہوںکہ ان فتنہ وفساد کے ایام میں چونکہ بہت سے کالج اور سکول بند رہے ہیں اس لئے عام طور پر لڑ کے تعلیم چھوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔لاہور کے کالجوں میں ہی جہاں ہزار بارہ سولڑ کا ہوا کرتا تھا اب ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سولڑ کے رہ گئے ہیں اکثر طالب علم گھروں میں بیٹھے ہیں اور وہ کوئی کام نہیں کر رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے ملک پر ایک بڑی بھاری آفت اور مصیبت آئی ہے جس میں لڑکوں کا اپنی پڑھائی جاری رکھنا مشکل تھا مگر جب وہ اپنی اپنی جگہ پر پہنچ چکے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تعلیم کو ضائع نہ کریں۔تعلیم آئندہ زمانہ کی دولت ہے اور اس دولت کو موجودہ زمانہ کی مصیبت کی وجہ سے برباد نہیں کرنا چاہئے۔اس زمانہ کی مصیبت کا بوجھ ہم کو خود بر داشت کرنا چاہئے۔آئندہ زمانہ اپنے ساتھ نئی ذمہ داریاں اور نئے بوجھ لائے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان ذمہ داریوں کیلئے اپنی آئندہ نسل کو تیار نہ کریں۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ جن جن دوستوں کے بیٹے گھر میں بیٹھے ہیں وہ انہیں تعلیم پر مجبور کریں۔آخر ہر ایک کا بیٹا مصیبت میں مبتلا نہیں بعض اس خوشی میں بیٹھے ہیں کہ اچھا ہوا پڑھائی ختم ہو گئی۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی اس خوشی میں شریک نہ ہوں یہ حقیقی خوشی نہیں بلکہ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے والی بات ہے۔جس جس کا بچہ گھر میں بیٹھا ہو اس کا فرض ہے کہ وہ اُسے کالج یا سکول میں داخل