انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 321

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۲۱ الفضل کے اداریہ جات گلکت ، مظفر آباد، کشمیر اور پونچھ، میر پور اور ریاسی کو نہ دیا جائے اور ان کے اس حق کی تائید میں پاکستان کی گورنمنٹ اور پاکستان کی رعایا آواز نہ اُٹھائے۔ہم کشمیر کے متعلق مشکوک ہیں کہ آیا کشمیر ویلی کے لوگ اس وقت پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے کیونکہ کشمیر کے نائب وزیر شیخ عبداللہ نے اپنے چند دنوں کے اقتدار میں بہت سے قومی لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے اور بہت سے قومی لیڈر چھپے پھرتے ہیں جب تک کشمیر ویلی آزادی کے بعد دو تین مہینے غیر جانبدار افسروں کے ماتحت نہ رہے، اس کے باشندوں کی رائے آزادانہ رائے نہیں کہلا سکتی۔پس انصاف کے مطابق فیصلہ جس کی تائید پاکستان حکومت اور پاکستان کی رعایا کو کرنی چاہئے یہی ہے کہ:۔(۱) پہلے تو جموں اور کشمیر سے ہندوستانی فوج کو واپس بلایا جائے۔(۲) افغان اور دوسرے لوگ جو کشمیر کے باہر کے ہیں ان کو بھی واپس کیا جائے۔اس کے بعد ایک غیر جانبدارانہ حکومت قائم کی جائے اور یونان کے بادشاہ کی طرح جموں کے راجہ کو مجبور کیا جائے کہ جب تک ملک کے بالغوں کی رائے شماری کے بعد جموں اور کشمیر سٹیٹ کی آئندہ ساخت کا فیصلہ نہ ہو جائے۔اور وہ فیصلہ اُس کے حق میں نہ ہو، اُس وقت تک مہا راجہ جموں اور کشمیر سے باہر رہیں۔جموں اور کشمیر سٹیٹ یونان سے زیادہ آزاد نہیں۔اگر یونان کے بادشاہ پر امریکہ اور انگلستان یہ زور ڈال سکتے تھے کہ تا فیصلہ وہ یونان سے باہر رہے تو کشمیر کے مہا راجہ سے یہ شرط کیوں نہیں کی جاسکتی کہ وہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کے فیصلہ تک کشمیر سے باہر رہے اور اُس وقت تک ایک غیر جانبدار حکومت جموں اور کشمیر میں قائم کی جائے۔(۳) گزشتہ ایک سال کے اندر جتنے سکھ اور ہندو جموں اور کشمیر میں باہر سے آ کر بسے ہیں ، اُن سب کو وہاں سے رخصت کر دیا جائے۔(۴) وہ تمام کشمیری ، مظفر آبادی ، پونچھی اور جموں کے صوبہ کے مسلمان جو پچھلے بارہ مہینے کے عرصہ میں جموں اور کشمیر سٹیٹ سے چلے گئے ہیں اُن کو دوبارہ لا کر آباد کیا جائے۔اس کے بعد ایک آزاد کمیشن کی نگرانی میں ان پانچوں حلقوں سے جو مذہبی اور نسلی اختلاف رکھتے ہیں الگ الگ رائے شماری کی جائے جو جو علاقہ پاکستان میں ملنے کا فیصلہ دے یا آزاد ہونے کا