انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 296

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۶ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کانگرس ریزولیوشن کی کمزوریاں ہم لکھ چکے ہیں کہ کانگرس ریزولیوشن میں پاکستان اور ہندوستان میں امن کے قیام کے لئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ نہایت مناسب ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اس میں کچھ کمزوریاں بھی باقی رہ گئی ہیں۔اس ریزولیوشن میں اس امر کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ان حالات کے پیدا کرنے والوں کو جن کی وجہ سے اقلیتوں کو گھر چھوڑنے پڑے پکڑا جائے اور انہیں سزا دی جائے دنیا کا کوئی انسان بھی اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ ایک کروڑ کے قریب آدمی جس نے اپنے وطن کو چھوڑا ہے بغیر کسی وجہ کے اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری طرف چلا گیا ہے یا ان لوگوں کی ہم مذہب حکومتوں نے انہیں اپنی طرف بلایا ہے اور یا پھر غیر مذاہب کے لوگوں نے یا غیر مذاہب کی اکثریت والی حکومتوں نے انہیں مجبور کر کے اپنے گھروں سے نکالا ہے ان دوصورتوں کے سوا کوئی تیسری صورت ممکن نہیں۔اگر تو پاکستان کی حکومت نے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو بلایا ہے یا پاکستان کی مسلم انجمنوں نے ہندوستان کے رہنے والے مسلمانوں کو بلا یا ہے یا پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کو ہندوستان کی گورنمنٹ نے بلایا ہے یا ہندوستان کی ہندو یا سکھ انجمنوں نے بلایا ہے تو کانگرس کا ریزولیوشن بالکل اُدھورا رہ جاتا ہے کیونکہ کانگرس کے ریزولیوشن میں اس قسم کی نقل مکانی کے خلاف کوئی بات نہیں پائی جاتی حالانکہ اس کے خلاف ضرور آواز اٹھائی جانی چاہئے تھی۔اگر اس کے برخلاف حکومتوں یا حاکموں یا غیر مذاہب کے افراد نے ہندوستان سے مسلمانوں اور پاکستان سے ہندوؤں اور سکھوں کو نکلوایا ہے تو وہ لوگ جنہوں نے ایسا کیا، ان کے خلاف بھی تو کوئی قدم اُٹھانا چاہئے۔کانگرس جب یہ کہتی ہے کہ وہ حالات بدلے جائیں جن کے باعث ہندوستان اور پاکستان سے مسلمان اور ہندو نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں تو اس کے معنی اِس کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے ہندوستان سے