انوارالعلوم (جلد 19) — Page 295
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۹۵ الفضل کے اداریہ جات لیگ کو فوراً اس کے جواب میں ایک اعلان شائع کرنا چاہئے جس میں اپنی قومی پالیسی کو قومی مجلس کے ذریعہ سے شائع کر دینا چاہئے تا کہ دنیا پر یہ بداثر نہ پڑے کہ کانگرس تو صلح کا ہاتھ بڑھا رہی ہے لیکن لیگ ایسا کرنا نہیں چاہتی۔لیگ یقیناً ان خیالات کی کانگرس سے بھی زیادہ حامی ہے کیونکہ یہ خیالات اسلامی ہیں بلکہ لیگ کو چاہئے کہ ان خامیوں کی بھی اصلاح کر دے جو اس ریزولیوشن میں پائی جاتی ہیں اور کانگرس سے بھی زیادہ وسیع حوصلہ کے ساتھ صلح اور آشتی کا ہاتھ بڑھائے۔اس کے بعد عمل کا سوال پیدا ہو گا۔اگر کانگرس نے لیگ کی تائید کے بعد عمل کی طرف قدم نہ اٹھایا تو دنیا کو یہ جاننے کا موقع مل جائے گا کہ کانگرس نے وہ بات کہی جس پر وہ عمل کرنا چاہتی تھی۔جب لیگ نے اس کی پالیسی کی تائید کر دی تو اس نے اپنا قدم پیچھے ہٹا لیا۔اگر ایسا | ہوا تو لیگ کی عزت دنیا کی نظروں میں بڑھ جائے گی اور مسلمانوں کو پھر ایک بار اُس عزت سے حصہ مل جائے گا جو ان کے نبی مکرم نے ان کے ورثہ میں چھوڑی ہے اور اگر کانگرس نے لیگ کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور اپنی شائع کردہ پالیسی پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گئی تو اس سے بہتر بات ہندوستان کے لئے اور کیا ہوگی۔بہت سے جھگڑے آپس میں طے کرنے والے باقی ہیں۔بہت سی شکایتوں کا ازالہ ہونے والا ہے۔مگر بسا اوقات جب لوگ ایک بات کو محبت سے طے کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں تو دوسری باتوں کا تصفیہ بھی آپ ہی آپ ہوتا چلا جاتا ہے۔ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔صلح کے لئے بڑھایا ہوا ایک قدم دو اور قدموں کے بڑھانے کے لئے رستہ صاف کر دیتا ہے۔آؤ ہم ان لاکھوں غریبوں اور مسکینوں کا خیال کریں جو اپنے وطنوں سے دور اِدھر اُدھر دھکے کھاتے پھرتے ہیں جن کے ساتھ حسن سلوک بھی کیا جاتا ہے اور جن پر زبان طعن بھی دراز کی جاتی ہے۔بعض لوگ بھائیوں کی طرح ان سے بغلگیر ہو رہے ہیں تو بعض ان سے فقیروں اور بھیک منگوں کا سا سلوک کر رہے ہیں۔آؤ ہم ان لوگوں کو پھر اپنے گھروں میں بسانے کے لئے ایک جد و جہد کریں اور ایک ایسا قدم اُٹھا ئیں جس سے ملک میں امن کی فضا پیدا ہو جائے۔شاید دلوں میں نرمی پیدا ہونے کے بعد وہ دوسرے سیاسی اور اقتصادی جھگڑے بھی طے ہو جائیں جو اس وقت ہندوستان کے خیالات کو مشوش کر رہے ہیں۔( الفضل لا ہور ۲۱ نومبر ۱۹۴۷ء)