انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 8

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر تھے ہم ترکوں کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں عیسائی پادریوں نے جو سخت متعصب تھے سمجھا کہ اس سے زیادہ اچھا موقع عیسائیت کے غلبہ کا اور کوئی ہاتھ نہ آئے گا اور یہ ایسا وقت ہے کہ ہم جو کچھ بھی کہیں گے مسلمان قبول کرتے جائیں گے اور ہماری کسی بات کی تردید نہیں کریں گے۔اُس وقت حالت بالکل ایسی ہی تھی کہ اگر مسلمان عیسائیوں کی ان باتوں کی تردید کرتے اور کہتے کہ شعراء تمہارے نہیں بلکہ ہمارے اچھے ہیں تو آپس میں اُلجھ کر رہ جاتے اس لئے مسلمانوں نے اسی میں اپنی بھلائی سمجھی کہ ان کی کسی بات کی نفی نہ کی جائے تا کہ یہ ہم سے خوش ہو جائیں۔پس مسلمانوں کی اس مجبوری سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے متعصب عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں بے حد مبالغہ سے کام لیا اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ عربی لغت اریمک کی ممنونِ احسان ہے اور عربی زبان میں جس قدر ترقی ہوئی ہے وہ عیسائی شعراء کے ذریعہ ہوئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابتدائی زمانہ میں شاعری ابھی پورے طور پر مدون نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے عرب شعراء کے کلام میں بعض اوقات وزن کے لحاظ سے اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی تھیں جیسے اردو میں کوئی شخص جمال اور جلال کہتے کہتے چنار کہہ جائے مگر بعد کا ارتقاء یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ اس ارتقاء میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔اگر غور سے کام لیا جائے تو ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے زبان کو اعلیٰ درجہ کے نقطۂ کمال تک پہنچایا ہے چنانچہ اسی وجہ سے متعصب عیسائیوں کے مقابلہ میں خود عیسائیوں اور مسلمانوں کے اندر ایک اور طبقہ پیدا ہو گیا۔متعصب عیسائی تو یہ کہتے تھے کہ ترقی اور ارتقاء ختم ہو گیا ہے عیسائی شعراء پر۔مگر درمیانی طبقہ کے عیسائی کہتے تھے کہ ترقی اور ارتقاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جاری رہا۔اسی طرح مسلمانوں کا طبقہ تو کہتا تھا کہ ترقی اور ارتقاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی تھا اور عربوں میں بھی یہ خوبیاں پائی جاتی تھیں گو یہ ارتقاء بعد میں بھی جاری رہا چنانچہ بعض عیسائیوں نے اس کے متعلق کتا بیں بھی لکھی ہیں کہ ارتقاء اسلامی تمدن کے وقت بھی جارہی رہا ، یہ درست نہیں کہ مسلمانوں نے زبان میں کوئی اصلاح اور تجدید نہیں کی۔غرض ایک حصہ عیسائیوں کا اور ایک حصہ مسلمانوں کا اس نقطہ نگاہ پر متفق ہو گیا کہ اسلام سے پہلے بھی عربوں میں خوبیاں پائی جاتی تھیں اور بعد میں بھی یہ خوبیاں جاری رہیں اور