انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 224

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۲۲۴ الفضل کے اداریہ جات جرمن کی فوجوں میں پوشش لوگوں کو بڑے عہدے ملتے تھے اور نہ روسی فوجوں میں پولش لوگوں کو بڑے عہدے ملتے تھے اُس وقت پولش نے اپنی فوجوں کی کمانڈ ایک گویے کے سپرد کی اور اس گویے نے تھوڑے بہت فوجی اصول سے واقف پولش افسروں کی مدد سے اپنے ملک کو آزاد کرالیا۔کیا پاکستان کے مسلمان افسر اس گویے سے بھی کم قابلیت رکھتے ہیں۔اس گویے کی کیا قابلیت تھی صرف حب الوطنی ، وطن کی محبت کے بے انتہا جذ بہ نے اس گویے کو ایک قابل جرنیل بنا دیا۔کیا ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے مسلمان افسروں کے دل سے وطن کی محبت کا جذ بہ بالکل مفقود ہے؟ ہم مانتے ہیں کہ پُرانی روایات کا اثر اب تک افسروں کے دل پر باقی ہے۔ابھی ان کی حب الوطنی کی روح نے ان کی آنکھیں نہیں کھولیں ، ابھی اپنی قوم کو سر بلند و بالا کرنے کے جذبات ان کے دل میں پوری طرح نہیں اُمڈے مگر پھر بھی ایک پاکستانی ، پاکستانی ہی ہے اپنے ملک کی خدمت کے علاوہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی جان بچانے کی خواہش بھی اسے زیادہ محنت سے کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔اگر پاکستان پر کوئی حملہ ہوتو ایک پاکستانی جرنیل کو صرف اپنے ملک کی عزت کا ہی خیال نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ بھی نظر آرہا ہو گا کہ اگر دشمن آگے بڑھا تو اُس کے ماں باپ ، اُس کی بیوی، اُس کے بھائی ، اس کی بہنیں ، اُس کے بچے، اُس کے دوسرے عزیزوں کے بچے ، اُس کے پڑوسی ، اُس کے املاک اس کی جائدادیں یہ سب تباہ و برباد ہو جائیں گے۔پس ملکی جذبہ کے علاوہ خاندان اور قرابت کے بچانے کا جذبہ بھی اس کے اندر کام کرتا ہوگا۔پس ہمیں اس بات کی فکر میں زیادہ نہیں پڑنا چاہئے کہ ہمارے ملک کے آدمی ابھی پوری طرح تجربہ کا رنہیں۔جدید ترکی کے بانی کمال اتا ترک صرف ایک کرنیل تھے لیکن وطنی محبت کے جذبہ میں سرشار ہو کر اس کرنیل نے بڑے بڑے جرنیلوں کے چھکے چھڑا دیئے۔فرانس کا مشہور مارشل شہنشاہ نپولین نے صرف فوج کا ایک لفٹینٹ تھا لیکن اس لفٹینٹ نے دنیا کے مشہور ترین جرنیلوں کی قیادت کی صرف اس لئے کہ اس کا دل وطن کی محبت کے جذبات سے سرشار تھا۔امریکہ کا پہلا پریذیڈنٹ اور پہلا کمانڈر انچیف جارج واشنگٹن لالے محض ایک سویلین تھا لیکن وطن کی محبت کے جذبات نے اس کے اندر وہ قابلیت پیدا کر دی کہ بڑے بڑے جرنیلوں کی راہ نمائی