انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 223

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۳ الفضل کے اداریہ جات 66 میں گھوڑوں پر سوار ہو کر دوسڑکوں کے درمیانی علاقہ کو صاف کرتی چلی جائے اور مشینی فوج کے عقب کی حفاظت کر سکے مگر یہ سوال تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ پاکستان حملہ آور کی حیثیت میں ہو۔پاکستان تو کسی پر حملہ کرنے کی نیت ہی نہیں رکھتا۔اگر یہ کہا جائے کہ بہترین جرنیلوں کا مقولہ ہے کہ بہترین دفاع حملہ ہے اگر کوئی ہم پر حملہ کرے تو اس حملہ سے بچنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ہم اس پر حملہ کر دیں تو بھی ہم اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ کوئی فوج محض حملہ کرنے کی تدبیروں سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔جرمن حکومت گزشتہ دنوں لڑائیوں میں محض اس لئے شکست کھا گئی کہ اس نے صرف حملہ کی تیاریاں کی تھیں دفاع کی کوئی تیاری اس نے نہیں کی تھی۔دونوں دفعہ جب اس کا حملہ ناکام رہا تو وہ دفاع کی قوت سے بھی محروم ہو گیا کیونکہ دفاع کا پہلو اس نے مد نظر نہیں رکھا تھا۔یہ پرانا مقولہ اب تک بھی درست چلا آ رہا ہے کہ ” جنگ دو سردار جنگ میں کبھی انسان آگے بڑھتا ہے کبھی پیچھے ہتا ہے جب تک پیچھے ہٹنے کے لئے بھی پوری تدبیریں نہ کی گئی ہوں کبھی کوئی فوج کا میاب نہیں ہوتی۔پس صرف مشینی دستوں پر زور دینا پاکستان کے دفاع کو فائدہ نہیں پہنچائے گا۔کسی دشمن کے حملہ کی صورت میں اس کے حملہ کی شدت کو روکنے کیلئے بالمقابل حملہ کرنے میں تو یہ دستے کام آ جائیں گے لیکن ان کا فائدہ دیر پا اور دُور رس نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کے اردگرد جتنے ممالک ہیں اُن میں سڑکوں کا وسیع جال اس طرح نہیں پھیلا ہوا جس طرح یورپ میں پھیلا ہوا ہے۔پس اس معاملہ میں یورپ کی نقل کرنا خواہ اس کا فیصلہ بڑے بڑے جرنیل ہی کیوں نہ کریں خلاف عقل اور نا مناسب ہے۔ہمارے نزدیک پاکستان کی فوج کا بڑھانا نہایت ضروری ہے۔اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستانی فوج کی پاکستانی جرنیل ہی راہ نمائی کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت ہمارے پاس تجربہ کار افسر بہت کم ہیں لیکن جہاں نا تجربہ کاری نقصان دہ ہوتی ہے، ہمدردی کی کمی اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔اگر جاں نثار اور تجربہ کا مل جائیں تو فیھا لیکن اگر ایسے افسر نہ میں تو کم تجربہ کار لیکن جانثار افر تجر بہ کا لیکن بے تعلق افسر سے یقیناً بہت زیادہ بہتر ہے۔پولینڈ جب روس اور جرمنی سے آزاد ہوا تو اُس کے پاس تجربہ کار افسر نہیں تھے کیونکہ نہ