انوارالعلوم (جلد 19) — Page 216
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۱۶ الفضل کے اداریہ جات وزیروں اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ تعلقات بڑھائیں اور جب بھی وہ اس ملک میں داخل ہوں جہاں وہ پاکستانی سفیر یا ہائی کمشنر مقرر ہے وہ اُن کو اپنے گھر پر مہمان ٹھہرنے کی دعوت دیں اگر وہ ہوٹل میں ٹھہرنا ہی پسند کریں تو وہ ان کے اعزاز میں پارٹی دیں اور ان کے اس کام میں تعاون کریں جس کام کے لئے وہ اس ملک میں آئے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمام اسلامی ممالک زیادہ سے زیادہ آپس میں متحد ہوتے جائیں گے اور چند ہی سالوں میں ایک زبر دست اسلامی حکومت پیدا ہو جائے گی جسے چھیڑ نے کا کسی دشمن کو حوصلہ نہ پڑے گا۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ مسلمان حکومتوں میں سے کوئی ایک بھی تو ایسی نہیں جو دنیا کی بڑی حکومتوں میں شامل کئے جانے کی مستحق ہو۔آبادی کے لحاظ سے ، اقتصادی لحاظ سے، قومی تنظیم کے لحاظ سے مسلمان حکومتیں دوسری بہت سی حکومتوں سے پیچھے ہیں۔ان کو صف اول میں لانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ساری مسلمان طاقتیں متحد ہو جائیں اور سیاسی معاملات میں ایک ہی آواز اُٹھا ئیں اگر وہ ایسا کر لیں تو کم سے کم اپنی متحدہ حیثیت میں وہ دنیا کی بڑی حکومتوں میں شمار ہونے لگ جائیں گی۔دوسری خبر اسی سلسلہ میں ہمیں یہ ملی ہے کہ اب تک سعودی عرب سے بھی تعلقات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی حالانکہ سعودی عرب وہ ملک ہے جس میں ہمارا مقدس مقام مکہ مکرمہ اور ہمارا قبلہ گاہ بیت اللہ اور ہمارے آقا کا مقام ہجرت اور مدفن مدینہ منورہ واقعہ ہیں۔ہم خواہ کسی مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں ہم ان مقامات کی طرف سے اپنی نظریں نہیں ہٹا سکتے اور جس حکومت کے ماتحت بھی یہ مقامات ہوں اُس کیساتھ تعلق پیدا کرنا ہما را ضروری فرض ہے کیونکہ مسلمانوں کا حقیقی اتحاد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ستمبر کے آخر میں سلطان ابن سعود کے عرب کے تیل کے چشموں کے پاس حفوف مقام پر کچھ دنوں کے لئے آ کر قیام پذیر ہوئے۔عبدالرشید صاحب گیلانی سابق وزیر اعظم عراق جو جرمن کی جنگ کے وقت جرمنی سے ساز باز کرنے کے الزام کے نیچے آگئے تھے اور عراق سے بھاگ کر جرمنی چلے گئے تھے اور آجکل سلطان ابن سعود کے پاس رہتے ہیں ، ان کے ساتھ تھے۔کچھ ہندوستانی جو عبدالرشید صاحب گیلانی کے اُس وقت کے واقف تھے جب وہ جرمنی