انوارالعلوم (جلد 19) — Page 182
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۲ الفضل کے اداریہ جات خرابی پیدا نہ ہونے دیں اور یہ کہ اپنی باجگذار ریاستوں کے معاملہ میں بھی وہ دخل نہیں دیں گے۔جونا گڑھ معاہدہ کے رو سے اپنے خارجی تعلقات پاکستان کے سپرد کر چکا ہے اور جو نا گڑھ کی سیاست خارجہ اب خود جونا گڑھ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پاکستان کے ہاتھ میں ہے یہ معاہدہ چھپ چکا ہے اور تمام دنیا کے سامنے آچکا ہے۔جہاں تک امور خارجہ کا تعلق ہے جو نا گڑھ کا تعلق پاکستان سے ویسا ہی ہے جیسا کہ جونا گڑھ کا تعلق وائسرئے کے ساتھ تھا۔کیا انگریزی حکومت کے دور میں یہ ممکن تھا کہ فرانس اور جرمنی اپنا کوئی افسر براہ راست جونا گڑھ میں بھیج سکتے یا اگر فرانس اور جرمنی ایسا کرتے تو اُسی وقت انگریزی حکومت کان سے پکڑ کر اُن کو باہر نہ نکال دیتی اور ان سے یہ نہ کہتی کہ جونا گڑھ کے امور خارجہ ہمارے متعلق ہیں تمہارا جونا گڑھ سے کوئی تعلق نہیں تم ان کے متعلق ہم سے آ کر بات کرو؟ لیکن پاکستان کی حکومت نے اس ہتک کو خاموشی کے ساتھ برداشت کر لیا اور اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی یونین کو اور بھی دلیری پیدا ہوگئی اور اب انہوں نے جونا گڑھ کی ایک آزاد حکومت بمبئی میں قائم کر دی ہے۔کیا وہ حکومتیں جن کے تعلقات آپس میں دوستانہ اصول پر ہوتے ہیں ان کے ملک میں کوئی ایسی آزاد حکومت قائم کی جاسکتی ہے؟ جو دوست ملک کے خلاف ہو۔ہرا نٹرنیشنل لاء کا جاننے والا جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اس قسم کا فعل دوستانہ تعلقات کے منافی سمجھا جاتا ہے اور فور اوہ حکومت جس کے کسی علاقہ کے خلاف ایسی بات کی جاتی ہے اس پر احتجاج کرتی ہے اور مخالف حکومت کو پناہ دینے والی حکومت یا اس کو اپنے ملک سے نکال دیتی ہے یا پھر احتجاج کرنے والی طاقت اس سے اپنے دوستانہ تعلقات منقطع کر دیتی ہے۔ایک معاملہ کشمیر کا ہے ہندوستان گورنمنٹ بار بار اعلان کرتی رہی ہے کہ ٹرا ونکور کو آزادی نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس کی سرحدیں ہندوستان کے ساتھ ملتی ہیں۔حیدر آباد کو آزادی کے اعلان کی اجازت نہیں کیونکہ اس کی اکثریت ہندوستان سے ملنا چاہتی ہے کیا یہی حقوق پاکستان کو کشمیر کے متعلق حاصل نہیں ؟ کیا کشمیر کی سینکڑوں میل کی سرحد پنجاب اور صوبہ سرحد کے ساتھ نہیں ملتی ؟ کیا اس کے برخلاف ہندوستان کے ساتھ اس کا اتصال نہایت ہی چھوٹا نہیں ؟ کیا وہاں کی اسی فیصدی آبادی مسلمان نہیں اور کیا ان کی اکثریت پاکستان کی حامی نہیں ؟ پھر ہم نہیں