انوارالعلوم (جلد 19) — Page 565
انوار العلوم جلد ۱۹ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم غلام ہیں اور ہم پر کوئی ذمہ داری ہے اور وہ بھول جائے کہ وہ ملت تؤید الدین ہے۔ان باتوں کے یا درکھنے میں وہ مزا نہیں جو ان کے بھول جانے میں ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ رات بھر سوئیں، دن بھر حقہ پیئیں اور کبھی کبھی اپنے بیلوں کو سونٹی سے ہا تک دیا کریں اور سکھ رات سے جا کر اپنے کھیتوں میں ہل چلائیں اور محنت کریں لیکن فصل پکنے کا موقع آئے تو اُن کا غلہ ہمارے کھلیانوں میں آ جائے اور ہمارا اُن کے کھلیانوں میں چلا جائے بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہم امید تو یہ رکھتے ہیں کہ ہمار غلہ بھی ہمارے کھلیانوں میں رہے اور سکھوں کا غلہ بھی مشرقی پنجاب سے اُڑ کر ہمارے کھلیانوں میں پہنچ جائے۔غرض محنت وہ کریں اور کھائیں ہم کیونکہ ہم مؤمن ہیں اور وہ کا فر مؤمن و کافر میں یہ فرق بھی نہ ہو تو اس ایمان و یمان کے جھگڑے سے فائدہ ہی کیا ؟ ہم چاہتے ہیں کہ سینما ہوں ، خوب اچھی اچھی فلمیں دکھائیں اور اللہ میاں اُن کے دیکھنے کیلئے ہم کو خوب خوب پیسے دیں اور ہمارے علماء وزارتوں کے پیچھے ڈنڈے لئے پھریں اور اس طرف دیکھنے کی اُن کو فرصت ہی نہ ملے کہ مسلمان رات دن ناچ اور گانے میں لگے رہتے ہیں اور وہی چیزیں جو اسلام کی رُوح کے خلاف ہیں اُن کی رُوح کا جزو بنی ہوئی ہیں۔ہم سینما سے نکلنے کے بعد اسلام زندہ باد کا نعرہ لگا دیں اور ہمارے مولوی اس نعرہ کو وزارت کی طرف لڑھکا دیں اور اس گیند بلے کی کھیل ہی میں عمر گزر جائے ،سینما گھروں کی رونق میں فرق نہ پڑے اور مسجدوں کی ویرانی میں کمی نہ آئے۔ہمارے دلوں کا اسلام مُردہ ہی رہے اور زبانوں کا اسلام روز بروز زندہ ہوتا چلا جائے۔ہماری عورتیں چاہتی ہیں کہ اسلامی ورثہ سے وہ فائدہ اُٹھا ئیں۔اسلامی حقوق ان کو حاصل ہوں لیکن اسلامی ذمہ داریاں اُن پر عائد نہ ہوں۔پردہ کا سوال کوئی نہ اُٹھائے اور خلاف شریعت اختلاط کے متعلق کوئی زبان نہ کھولے۔آخر عورت ذات نازک ذات ہے جب ہمارے مرد بشری کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر غفار وستار کی ذات پر نگہ رکھتے ہیں تو عورتیں تو کمزوروں میں سے کمزور جنس ہیں وہ اس کی غفاری ستاری سے کیوں فائدہ حاصل نہ کریں۔پس لطف تو اسی میں ہے کہ وہ بے ستری پر زور دیں اور خدا ستاری پر۔