انوارالعلوم (جلد 19) — Page 458
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۸ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں اپنے بچے کی وفات کی خبر سنے اور پھر بھی اپنے جذبات کو غالب نہ آنے دے۔مگر صحابیات نے اس بارہ میں بھی جو نمونہ پیش کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔اُحد کی جنگ کا واقعہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم آئے اور آپ بے ہوش ہو کر ایک گڑھے میں جا پڑے کئی اور صحابہ آپ کو بچاتے ہوئے شہید ہو گئے اور ان کی لاشیں بھی آپ کے جسم پر جا پڑیں اور آپ اپنے صحابہ کی لاشوں کے نیچے دب گئے بعض صحابہ نے غلطی سے یہ سمجھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔چونکہ اس سے پہلے اسلامی لشکر کو فتح ہو چکی تھی اور بہت سا حصہ اسلامی لشکر کا میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹ کر آرام کر رہا تھا اس لئے جب انہیں پتہ لگا کہ دشمن نے دوبارہ حملہ کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو ایک سراسیمگی اور پریشانی کی حالت میں کئی لوگ مدینہ کی طرف چل پڑے اور وہاں جا کر یہ خبر پھیلا دی۔حضرت عمر بھی انہی لوگوں میں تھے جو اسلامی لشکر کے فتح پانے پر پیچھے ہٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔جب انہوں نے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو ایک چٹان پر بیٹھ کر رونے لگ گئے وہ ابھی روہی رہے تھے کہ مالک انصاری ایک صحابی حضرت عمرؓ کے پاس سے گزرے اور ان سے کہا عمر ! یہ رونے کا کون سا موقع ہے۔خدا نے اسلام کو فتح دی ہے اور تم رو رہے ہو۔حضرت عمر نے کہا۔مالک !تمہیں پتہ نہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔انہوں نے کہا کیا ہوا ؟ حضرت عمرؓ نے کہا بے شک اسلامی لشکر کو فتح ہوئی تھی مگر بعد میں حالات بدل گئے۔دشمن نے اچانک حملہ کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔مالک اُس وقت بھوک کی وجہ سے کھجوریں کھا رہے تھے اور آخری کھجور ان کے ہاتھ میں تھی۔انہوں نے کہا عمر! اگر ایسا ہوا ہے تو پھر بھی یہ رونے کا کون سا مقام ہے اگر ہمارا آقا اور ہمارا محبوب شہید ہو چکا ہے تو جہاں ہما را محبوب گیا ہے ہم بھی وہیں جائیں گے۔ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم اس وقت عورتوں کی طرح بیٹھ کر رونے لگ جائیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دشمن پر حملہ کریں اور مارے جائیں۔پھر انہوں نے کہا میرے اور جنت کے سوائے اِس کھجور کے ( جو اُن کے ہاتھ میں تھی ) اور کونسی چیز حائل ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے کھجور کو پھینکا اور جبکہ تمام مسلمان بظا ہر لڑائی ختم کر چکے تھے اور ادھر اُدھر پھیلے ہوئے تھے اُنہوں نے اکیلے دشمن پر حملہ کر دیا اور اس جوش اور دیوانگی کے ساتھ لڑائی کی کہ جنگ کے۔