انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 425

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۲۵ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی تو کسی ذاتی غرض کے لئے ، اس لئے وہ آئین اسلام نہ بنائے گا بلکہ آئین اسلام کے نام سے ایسا قانون بنائے گا جو اس کی ذات کے لئے مفید ہو۔ایسا آئین یقیناً غیر اسلامی آئین سے بھی خطرناک ہوگا کیونکہ وہ سوسائٹی کے لئے بھی مضر ہو گا اور اسلام کو بھی بگاڑنے اور بد نام کرنے والا ہوگا۔پس جب تک فرد اپنے ذاتی اعمال کو اسلام کے مطابق کرنے کے لئے تیار نہیں اسے کوئی حق نہیں کہ اسلامی آئین بنانے کا مطالبہ کرے یا دعوی کرے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ اسلام کا آئین بنانے والے فردی قانونِ اسلام پر خود کار بند ہیں۔اب میں تفصیل کو لیتا ہوں۔اسلامی آئین کے جاری کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ سُو دحرام کرنا ہوگا ، موجودہ سینیما بند کرنے ہوں گے ، اسلامی پردہ رائج کرنا ہوگا ،شراب بند کرنی ہوگی۔انشورنس حرام ہوگا ، جوا صرف بازاری نہیں بلکہ اس کے مشابہہ کھیلیں بھی جو چانس گیمز کہلاتی ہیں منع ہوں گی ، ڈاڑھیاں رکھی جائیں گی ، مردوں کے لئے سونے کا زیور یا استعمال کی چیز ، چاندی سونے کے برتن بلکہ تالیاں بجانا بھی منع کرنا ہوگا ، جاندار کی مصوری اور ان تصویروں کی نمائش بھی نا جائز ہو گی۔اگر مسلمان اس کے لئے تیار ہوں تو پھر وہ شوق سے اسلامی آئین جاری کریں لیکن اس کے لئے اس اعلان کی ضرورت نہیں کہ وہ اسلامی حکومت جاری کریں گے کیونکہ قرآن کریم تو صاف کہتا ہے کہ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولئكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ) کیا مسلمان دوسری اقوام کو مجرم بنانا چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی اجازت کو چھین لیں گے اور قرآنی حکم پر عمل ہوگا کہ ہر مذہب کے پیرو اپنے مذہب کے قانون کے مطابق عمل کریں گے تو پھر اس فتنہ کا دروازہ کھولنے کی کیا ضرورت ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو نقصان پہنچے یہ کیوں نہ کہا جائے کہ پاکستان میں مسلمانوں کے باہمی معاملات اسلام کے مطابق طے ہوں گے اور دوسرے مذاہب اگر چاہیں تو ان کے معاملات ان کے مذہب کے مطابق ورنہ ان کی کثرت رائے کے مطابق قانون بنا دیا جائے گا۔ان الفاظ میں وہی مطلب حاصل ہو گا جو اسلامی حکومت کے لفظوں میں ہے لیکن کسی کو اعتراض کرنے یا بدلہ لینے کا حق نہیں ہو گا۔غیر مذاہب میں سے جو اعلان کر دیں کہ وہ اسلامی قانون یا