انوارالعلوم (جلد 19) — Page 404
انوارالعلوم جلد ۱۹ ۴۰۴ تقریر جلسه سالانه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ! ہم پکڑے گئے تو میں نے بلند آواز سے کہا كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ اتنے میں میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔۱۳ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر سے ہجرت کرنی پڑی تھی اور فرعون آپ کے تعاقب میں نکلا تھا یہ سارا واقعہ ایک نظارہ کی صورت میں آپ کو دکھایا گیا اور اس طرح بتایا گیا کہ دشمن نہ صرف مارے گا بلکہ فرعون کی طرح وہ نکلنے بھی نہیں دے گا۔آپ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ میری جماعت کے لوگ فرعون اور اس کے لشکر کے تعاقب کو دیکھ کر گھبرا گئے اور کہہ اُٹھے کہ اے موسیٰ ہم پکڑے گئے۔تب میں نے کہا كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود پر لے جائے گا۔چنانچہ قا دیان والے گواہ ہیں ، سارے پنجاب میں بسنے والے لوگ گواہ ہیں کہ اگر کوئی جماعت دشمن کے حملہ سے محفوظ رہ کر پاکستان پہنچی ہے تو وہ صرف قادیان والے ہی ہیں۔پھر آپ کا الہام ہے۔مَصَالِحُ الْعَرَبِ مَسِيرُ الْعَرَبِ ، عرب کی مصلحتیں عرب میں چلنا۔پھر آپ کو ایک کاغذ ، ۱۴ دکھائی دیا اُس پر لکھا تھا۔”با مراد ، ۵ا پھر ایک کاغذ دکھائی دیا اُس پر لکھا تھا ”رڈ بلا مَسِيرُ الْعَرَبِ والے الہام کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عرب میں چلنا۔شاید مقدر ہو کہ ہم عرب میں جائیں۔کلے میں نے بتایا ہے کہ ہمارا کام سارے مسلمانوں کو متحد کرنا اور عملی لحاظ سے اُن میں اشتراک پیدا کرنا ہے۔مصر اور عرب اسلامی ممالک ہیں اور پاکستان کے ساتھ ان کا اتحاد اسلام کی آئندہ ترقی کیلئے ایک نہایت ہی بیش قیمت چیز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام بتا رہا ہے کہ ہمیں اسلامی ممالک کی طرف بھی توجہ کرنی پڑے گی اور عرب میں اس غرض کیلئے جانا پڑ گیا۔چنانچہ میری نیت اور ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اگلے سال ان تین جگہوں میں سے کسی ایک جگہ میں ضرور جاؤں گا یا میں عرب جاؤں گا یا میں یورپ میں جاؤں گا یا میں امریکہ میں جاؤں گا۔میرا منشاء ہے کہ میں دورہ کر کے مسلمانوں کی تنظیم اور ان کے کام کو مضبوط کرنے