انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 345

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۴۵ الفضل کے اداریہ جات چاہئے۔اس سلسلہ میں بعض نہایت اہم اور نئے خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں مگر سیاسی مصالح مجھے ان خطرات کے متعلق کچھ کہنے کی اجازت نہیں دیتیں اگر وہ خطرات زیادہ معین صورت اختیار کر گئے تو پاکستان کو مصیبت کے ایک نئے دور میں سے گزرنا پڑے گا۔ہم خدا تعالیٰ سے یہی امید کرتے ہیں کہ وہ ان مصیبتوں سے پاکستان کو بچائے گا اور اگر وہ آ ہی پڑیں تو ان کے مقابلہ میں اسے کامیاب کرے گا لیکن ہمیں اپنی ذمہ داریاں بھلا نہیں دینی چاہئیں۔اس وقت ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ دانتوں میں زبان دے کر انتہائی جدو جہد کرنے کیلئے تیار ہو جائے۔افسوس کہ حکومت کی مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنا نہیں چاہئے۔کاکلوں: الفضل لا ہور ۲۳ مارچ ۱۹۴۸ء) منجدھار : سمند ریا دریا کے بیچ کی دھار۔مصیبت۔عین مصیبت کی جگہ کفگیر : ڈنڈی والا بڑا چمچہ الاحزاب : ۱۱ تا ۱۴ ماؤنٹ بیٹن لارڈ: (۱۹۰۰ء۔۱۹۷۹ ء ) پہلا ارل برطانوی منتظم وائسرائے ہند و گورنر جنرل بھارت۔یہ ملکہ وکٹوریہ کا بیٹا تھا۔۱۹۱۳ء میں بحریہ میں بھرتی ہوا۔پہلی جنگ عظیم کے دوران خدمات انجام دیں۔۱۹۴۲ء میں فوجی نقل و حمل کے سلسلے میں مشترکہ فوجوں کا سر براہ اور ۱۹۴۳ ء میں جنوب مشرقی ایشیا میں کمانڈر انچیف بنا دیا گیا۔۱۹۴۴ء۔۱۹۴۵ء میں اسے برما کو دوبارہ فتح کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔ستمبر ۱۹۴۵ء میں اس نے سنگا پور میں جاپانی فوجوں سے ہتھیار ڈلوائے۔مارچ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کا آخری وائسرائے بنا۔۵/اگست ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کے بعد جون ۱۹۴۸ ء تک بھارت کا پہلا گورنر جنرل رہا۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۳۹۷۔مطبوعہ لا ہور ۱۹۸۸ء) 1 متی باب ۵ آیت ۳۹۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء