انوارالعلوم (جلد 19) — Page 333
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۳ الفضل کے اداریہ جات سوال یہ ہے کہ دتی کے مسلمانوں کو کس بناء پر نکالا گیا تھا؟ تقسیم تو پنجاب ہوا تھا رتی کا صو بہ تو تقسیم نہیں ہوا تھا۔تقسیم پنجاب کا اثر دتی کی آبادی پر جا کر کیوں پڑا ؟ کیا دتی کے صوبہ کا کوئی ٹکڑا بھی پاکستان کو ملا ہے جس کی آبادی کے تبادلہ کا سوال پیدا ہو۔صرف اور صرف پنجاب اور بنگال کی آبادی کے تبادلہ کا سوال پیدا ہو سکتا ہے گو جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں یہ بھی غلط ہوگا اور انصاف کے خلاف ہوگا لیکن سو میں سے اگر ایک وجہ جواز بھی پیدا ہوسکتی ہے تو صرف اس بات کی دتی کے لوگوں کے ادھر اُدھر کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں۔دتی کی آبادی کا تعلق لاہور کی آبادی کے ساتھ ہر گز کوئی نہیں۔لاہور کی آبادی کا تعلق امرتسر کی آبادی سے ہے۔اگر لاہور میں ہندوؤں اور سکھوں کے بسانے کا سوال پیدا ہوتا ہے تو ساتھ ہی امرتسر میں مسلمانوں کے بسانے کا سوال اُٹھایا جانا چاہئے۔اس سے پہلے بھی پاکستانی افسر تساہل سے کام لے کر کام خراب کرتے رہے ہیں اور اب پھر آثار ظاہر ہو رہے ہیں کہ گاندھی جی کے روزہ سے ڈر کر ایسی ہی حماقت ہمارے بعض افسر پھر کریں گے۔ہم یہ تو کہنے کے لئے تیار ہیں کہ ہندوستان یونین مسلمانوں کو بسائے یا نہ بسائے پاکستانی حکومت اسلامی اخلاق سے کام لیتے ہوئے ہندوؤں اور سکھوں کو لا کر دوبارہ اپنی جگہ پر بسا دے یہ خیال نہ کرے کہ اتنے آدمی کہاں بسیں گے۔بہر حال جن لوگوں نے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر ظلم کیا وہ مغربی پنجاب کے ہندو اور سکھ نہیں تھے۔اُن کو کسی صورت میں بھی مشرقی پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کی وجہ سے تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے لیکن ہم اخلاق اور مذہبی بناء پر اس کی تائید میں ہیں۔ہم یہ ہرگز جائز نہیں سمجھ سکتے کہ ہماری مذہبی فوقیت کو اس سیاسی شکست کی شکل میں بدل دیا جائے۔اگر مغربی پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کو بغیر کسی بدلہ کے خیال کے مغربی پنجاب میں بسایا جائے تو یہ ہماری فتح ہوگی ، اسلام کی فتح ہوگی ، اخلاق کی فتح ہوگی ، روحانیت کی فتح ہوگی لیکن اگر دتی کے مسلمانوں کے بسائے جانے کی وجہ سے لاہور کی آبادی کی گئی تو یہ ہماری شکست ہوگی مذہباً بھی اخلاقاً بھی اور سیاستاً بھی۔لاہور پاکستان کی سرحدوں کا ایک شہر ہے ایک سیاسی تدبیر کے ماتحت یہ مان لینا کہ تین سو میل پر واقعہ دیتی میں مسلمان آبادی کا بسا دینا جن کا نکالنا کسی معاہدہ کی رُو سے جائز نہیں تھا ، لا ہور میں ہندوؤں اور سکھوں کے بسا دینے کا بدل ہو سکتا ہے، بدترین حماقت کی مثال