انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 307

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۰۷ الفضل کے اداریہ جات ہجرت دیانتدارانہ ہجرت نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی اور سکیم مخفی ہے۔امریکن جرنیل کے اس بیان پر روسی مقبوضہ جرمنی کے کمانڈر اور روس کے بہت سے سیاسی افسروں نے بڑے زور سے پروٹیسٹ کیا اور اس پر اتنا شور پڑا کہ یو۔این۔اے کی تقسیم امداد کی انجمن کو اُس جرنیل کے خلاف ایکشن لینا پڑا لیکن چونکہ وہ جرنیل بہت بارسوخ تھا اُس نے اپنی عزت بچانے کیلئے کچھ مدت کی مہلت حاصل کر لی اور چند مہینوں کے بعد خود ہی کام سے الگ ہو گیا مگر اس نے اتنی ہمت ضرور کی کہ اپنے بیان کو واپس لینے سے انکار کر دیا لیکن روسی پرو پیگنڈا کی وجہ سے امریکن گورنمنٹ کے نمائندوں کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس جرنیل کا یہ بیان کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ اُدھر سے آ رہے ہیں درست معلوم نہیں ہوتا مگر یہ واقعہ درست تھا اور یہ تحریک ضرور جاری تھی۔ذرا سے غور سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ تحریک کیوں جاری کی گئی تھی۔اس کے جاری کرنے کی اس کے ہوا اور کوئی غرض نہ تھی کہ بالشویک خیالات سے متاثر یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعدا د فلسطین میں آباد کرا دی جائے تا کہ آئندہ فلسطین روس کے ساتھ متحد ہو اور روس کو فلسطین میں پاؤں جمانے کا موقع مل جائے۔روس سے براہ راست اس قسم کی جماعتیں بھجوانے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ فوراً اس راز کی طرف مائل ہو جاتی اس لئے تجویز یہ کی گئی کہ پہلے وہ لوگ اپنے آپ کو روسی ظلموں کا شکار قرار دے کر مغربی یورپ میں جائیں اور پھر وہاں سے فلسطین کی طرف ہجرت کریں تا کہ لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ ان کی نقل و حرکت کسی روسی سکیم کے ماتحت ہے۔ان لوگوں نے جب فرانس، اٹلی اور جرمنی کے مغربی حصوں کی طرف سے فلسطین کی طرف یورش کی تو انگریزوں نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ فلسطین میں جا کر ہمارے خلاف منصو بہ بازی کریں گے اس لئے اُنہوں نے ایسے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر جزیرہ سائپرس میں قید کرنا شروع کر دیا اور اس وجہ سے یہودیوں کو عام طور پر اور ان لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ برطانوی حکومت سے بغض پیدا ہو گیا۔دوسرا رخ اس کشمکش کا یہ ہے کہ امریکہ کی اقتصادی مشین بہت حد تک یہودیوں کے قبضہ میں ہے چونکہ امریکہ ایک نو آبادی ہے اور نو آبادیوں میں ہر قسم کے لوگ کثرت سے آ کر بس سکتے ہیں اور اپنے وطن کو وہی لوگ زیادہ تر چھوڑتے ہیں جن کو اپنے وطن میں تکالیف ہوں اس