انوارالعلوم (جلد 19) — Page 308
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۰۸ الفضل کے اداریہ جات لئے یورپ کے جن ملکوں میں یہودیوں کو تکلیفیں پہنچی تھیں وہ وہاں سے ہجرت کر کے امریکہ میں چلے جاتے تھے اور چونکہ امریکہ نے ہر ملک کے مہاجرین کے لئے ایک کوٹہ مقرر کر دیا تھا اور چونکہ یہودی یورپ کے تمام ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے جب کہ جرمن ، ایٹلین ، فرانسیسی ، انگریزوں، ڈچوں اور دوسرے ممالک کے لئے ہجرت میں روکیں اور حد بندیاں تھیں یہودی بوجہ سارے ملکوں میں پھیلے ہونے کے سب ملکوں کے کوٹہ سے فائدہ اُٹھاتے تھے اس لئے دوسری ساری قوموں کی نسبت یہودیوں کا داخلہ امریکہ میں زیادہ سرعت اور زیادہ تعداد میں ہو رہا تھا پس یہودیوں کا قبضہ دوسری قوموں کی نسبت امریکہ میں زیادہ تھا۔علاوہ اس کے کہ باہر کی قوموں میں سے نئی آنے والی قوموں میں ان کو بڑی کثرت حاصل ہے وہ تجارتی طور پر بھی امریکہ کی منڈیوں پر بڑا قبضہ رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی کبھی بھی نیشنلسٹ خیالات کا نہیں ہوا۔یہودی دماغ ہمیشہ قومیت کی طرف راغب رہا ہے اس لئے کسی ملک کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ اپنی قومی ذمہ داریوں کو بھول نہیں جاتا۔ایک امریکہ کو جانے والا انگریز ایک دو نسلوں میں انگلستان کو بھول جاتا ہے۔اسی طرح ایک جرمن اور ایک ایٹلین بھی لیکن ایک یہودی ایک ہزار سال میں بھی اپنے یہودی ہونے کو نہیں بھولتا۔سینکڑوں سال کے بعد بھی اگر امریکہ کے ایک یہودی کو جرمن کا ایک یہودی ملتا ہے تو وہ اُس کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے به نسبت امریکہ کے رہنے والے شخص کے۔اس وجہ سے یہودی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ہمیشہ بین الاقوامی منڈیوں پر قابض رہے ہیں ان کی اس طاقت کی وجہ سے بھی امریکن یہودیوں کی طاقت بڑھ گئی ہے۔پس ان کی مدد حاصل کرنے کیلئے امریکن حکومتوں نے یکے بعد دیگرے یہودیوں کی فلسطین کو یہودی آبادی بنانے کی سکیم کی تائید کرنی شروع کی۔پہلے تو یہ تائید صرف اپنے لوکل حالات کی وجہ سے تھی لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکنوں نے دیکھا کہ انگریزوں کی طاقت کمزور ہوگئی ہے اور وہ اپنی دور کی چھاؤنیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور اس وجہ سے بعض ممالک میں خصوصاً مشرق وسطی میں روسیوں کے تصرف کے بڑھ جانے کا خطرہ ہے تو اُنہوں نے فلسطین میں یہودیوں کے آباد کرانے کی سکیم کی خاص طور پر تائید کرنی شروع کر دی۔اس خیال سے کہ چونکہ یہودی ہمارے ممنونِ احسان ہیں اور فلسطین کی نو آبادی