انوارالعلوم (جلد 19) — Page 278
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۸ الفضل کے اداریہ جات ، روش ہی ان تمام مصائب اور ہولناک واقعات کی ذمہ دار ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کی تقسیم ہندوستانی لیڈروں کی باہمی رضامندی سے عمل میں آئی تھی لیکن محض اس کا ذکر کر دینے سے برطانیہ ان ہولناک واقعات کی جواب دہی سے سبکدوش نہیں ہوسکتا۔اس سے تو الٹا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ دیدہ دانستہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے گریز کر رہا ہے۔دو ڈومینینز کی باہمی چپقلش کا تماشہ اس کی ضیافت دیدہ و گوش کے لئے دلچسپ سامان سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتا اور ان کو خاص کر پاکستان کو ان کے باہمی رضا مندانہ فیصلہ پر متفق ہونے کی سزا دے رہا ہے کیونکہ متفقہ فیصلہ کی وجہ سے ہندوستان کی آزادی کو مزید التواء میں ڈالنے کے لئے اس کے پاس کوئی وجہ باقی نہیں رہ گئی تھی۔بظاہر بے حسی کی یہ پالیسی جو اس نے اختیار کر رکھی ہے یقینا اس کے انتقامی جذبہ کی طرف انگشت نمائی کر رہی ہے اور وہ گویا زبانِ حال سے کہہ رہا ہے دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ غلام ہندوستان کی بیماری کیلئے آزادی کا نسخہ راس نہیں آئے گا اُلٹا بیماری کو بڑھانے والا ثابت ہو گا ہم کو تسلیم ہے کہ ہندوستان کے موجودہ کشت وخون کے کھیل کے لئے خود اس براعظم کے ناعاقبت اندیش کھلاڑیوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے لیکن غور سے دیکھنے والے آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں کہ انتقال اختیار کے عمل میں برطانیہ کے ارباب حل و عقد اس نے دیدہ دانستہ ایسی روش اختیار کی جس سے ان ہولناک نتائج کا پیدا ہو جانا یقینی تھا۔اگر پچھلی جانبدارانہ کا رروائیوں کو نظر انداز کر بھی دیا جائے اور صرف ۳ جون ۱۹۴۷ء کے بعد کے حالات کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے تقسیم کو تکمیل تک پہنچانے میں برطانیہ کی طرف سے حصہ لیا، لارڈ مونٹ بیٹن سمیت پاکستان کو کمزور سے کمزور بنانے کے لئے نہایت جانبدارانہ روح سے کام لیتے رہے ہیں۔جس اصول پر لارڈ مونٹ بیٹن نے دونوں طرف کے لیڈروں سے رضا مندانہ فیصلہ کی دستاویز پر دستخط کرائے تھے، اس اصول کی خود ہی اپنے دوسرے دن والے بیان میں لارڈ موصوف نے دھجیاں اُڑا دی تھیں جب اُنہوں نے یہ کہہ دیا کہ بعض اضلاع مثلاً گورداسپور کی صورت میں جہاں اکثریت کنارے پر ہے رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔اس طرح پر آپ نے خود ان غیر منصفانہ دھکے شاہی کے لئے راستہ کھول دیا جس کے نتیجہ میں گورداسپور، بٹالہ اور دوسری