انوارالعلوم (جلد 19) — Page 279
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۹ الفضل کے اداریہ جات تحصیلوں کی مسلم اکثریت بالکل بے دست و پا ہو کر رہ گئی اور ان مظالم کا نشانہ بنی جو سکھ اور ہندو لیڈروں نے ان پر ڈھانے کے لئے پہلے ہی سوچ رکھے تھے۔ہم مانتے ہیں کہ جو بے انصافیاں مسلمانوں کے ساتھ ہوئی ہیں، حکومت برطانیہ مجموعی طور پر ان کے لئے قابل الزام نہیں ٹھہرائی جاسکتی اور اس کی زیادہ ذمہ داری ان دیگر مخفی یا ظاہر وجوہات پر ہے جو ہندوستانی لیڈروں کی ریشہ دوانیوں نے پیدا کیں اور تقسیم کرنے والوں پر جا و بیجا اثر ڈال کر ایسا فیصلہ کروالیا جو ہر طرح نہ صرف انصاف کے اصولوں کے خلاف تھا بلکہ خود لارڈ مونٹ بیٹن کے ۳ جون والے اعلان کے بھی سراسر اُلٹ تھا لیکن اس کے باوجود برطانیہ اب صرف یہ کہہ کر چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا کہ یہ فیصلہ ہندوستان کے لیڈروں کی باہم رضامندی سے ہوا تھا محض اس لئے کہ مسلم لیگ نے اس فیصلہ کے خلاف اتنا شدید احتجاج نہیں کیا جتنا اس کو کرنا چاہئے تھا۔اس کو رضا مندانہ فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔ایسی صورت میں کیا برطانیہ کے لئے لازم نہ تھا کہ کم از کم لارڈ مونٹ بیٹن کے ۳ جون والے متفقہ اعلان کی کسوٹی پر اس فیصلہ کو پرکھتا اور اپنی منصفانہ رائے کا اظہار کرتا۔خاص کر اب جب کہ اس غیر منصفانہ فیصلہ کے بدیع نتائج روز روشن کی طرح اس کے سامنے آچکے ہیں۔کیا برطانیہ کا فرض نہیں ہے کہ پاکستان کے ان حدود کو قائم رکھنے کیلئے ہی اب دخل اندازی کرے جو نہایت کستر و بیونت گلے کے بعد پاکستان کو حاصل ہوئے ہیں اور جس پر اس نے طوعاً و کرہا قناعت اختیار کر لی تھی۔اور باتوں کو چھوڑ دیجئے صرف ہندوستانی ڈومینین کی ان چیرہ دستیوں ہی کو لیجئے جو وہ اب ریاستوں کے معاملات میں پیچیدگیاں پیدا کر کے پاکستان کی ہستی کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اس کو کمزور سے کمزور تر کرنے کے درپے ہو رہی ہے۔اس نے پاکستان سے جنگ بر پا کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ایسے مجرمانہ اقدامات کئے ہیں کہ ہمیں حیرانی ہے کیوں پاکستان اب تک خاموشی اختیار کئے چلا جاتا ہے اور ہندوستان کی حکومت تمام بین الاقوامی رواداریوں کو اس طرح پس پشت ڈال رہی ہے کہ اگر پاکستان کو برطانیہ سے وہ تعلق نہ بھی ہوتا جو دولت مشترکہ کا ممبر ہونے کی وجہ سے اس کو ہے تو محض انسانیت کے لحاظ سے ہی اس کا دخل دینا نا واجب قرار نہیں دیا جا سکتا تھا اس لئے مسٹر ایٹلی کے بیان سے ہم یہ نتیجہ برآمد کرنے کے ہر طرح حقدار ہیں کہ