انوارالعلوم (جلد 19) — Page 271
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۱ الفضل کے اداریہ جات سپریم کمانڈ کو توڑنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ جلدی سے ہمارا سامان ہمارے حوالے کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو وہ خود سپریم کمانڈ کو قائم رکھنے کے سامان پیدا کرتی ہے۔آخر ہندوستان یونین اکیلے تو کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔پاکستان گورنمنٹ کو برٹش گورنمنٹ پر زور دینا چاہئے کہ اگر تم سپریم کمانڈ کو ہمارے سامان کے ملنے سے پہلے ختم کرتے ہو تو تم نہ صرف ایک معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہو بلکہ ان خطرناک نتائج کے پیدا کرنے کے بھی ذمہ دار ہو جو سپریم کمانڈ کے خاتمہ کے نتیجہ میں پیدا ہوں گے۔اگر تم اس کو ختم کرنا چاہتے ہو تو ہمارا حصہ جو ہندوستان یونین سے ہمیں ملنے والا ہے یا ان سے فوراً دلوا دیا اپنے پاس سے دو۔آخر برطانوی گورنمنٹ کے وعدہ کی کوئی تو قیمت ہونی چاہئے اگر وہ اتنی ہی نامرد ہو چکی ہے اور اتنی ہی بے بس ہو چکی ہے تو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں اُس نے دخل ہی کیوں دیا۔جب ہندوستان یونین کے ظلموں پر پاکستان شکایت کرتا ہے تو برطانوی گورنمنٹ اور برطانوی ڈومینین اپنی بے بسی کا اظہار کر دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ تمہارا اندرونی معاملہ ہے اور جب ایک ایسا معاہدہ جو ہندوستان اور پاکستان اور برطانیہ کے مشورہ سے ہوا تھا اسے تو ڑا جاتا ہے تو برطانوی گورنمنٹ یہ کہہ دیتی ہے کہ چونکہ ہندوستان نہیں مانتا اس لئے ہم سپریم کمانڈ کو ختم کرتے ہیں۔کیا برطانوی گورنمنٹ کی سیاست آئندہ اسی نقطہ پر چکر کھائے گی کہ ہندوستان یونین کیا چاہتی ہے اور کیا نہیں چاہتی اگر برطانوی گورنمنٹ کی آئندہ یہی پالیسی ہوگی تو اسے اس کا اعلان کر دینا چاہئے۔آخر ایک ایسا فیصلہ جو تین طاقتوں نے مل کر کیا تھا اسے ایک طاقت کے کہنے سے کس طرح تو ڑا جا سکتا ہے اور انصاف کا کون سا قانون ایسا کرنے کی تائید کرتا ہے۔ہم ان مسلمان اخبارات سے بھی پوچھتے ہیں جو سپریم کمانڈ کے توڑنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں بتائیں کہ پاکستان کا اتنا سامان جو ابھی ہندوستان یونین کے پاس ہے، سپریم کمانڈ کے ٹوٹنے کے بعد اس کے لانے کی کیا ترکیب ہوگی۔کیا ان کے نزدیک فیلڈ مارشل آخنلیک جو سامان نہیں بھیجو اسکا، سردار بلد یو سنگھ اس کو بھجواسکیں گے؟ اگر ان کے نزدیک سردار بلد یوسنگھ پر زیادہ اعتبار کیا جا سکتا ہے تو ہمارے نزدیک پاکستان کے قیام کی غرض ہی کوئی نہ تھی اور اگر سردار بلد یو سنگھ صاحب کے ہاتھوں سے اس سامان کا پاکستان کی طرف آنا زیادہ