انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 263

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۶۳ الفضل کے اداریہ جات پیدا ہوا اور پٹھانکوٹ سے ریل کے ذریعہ سے باقی ہندوستان سے۔تحصیل گورداسپور اور تحصیل بٹالہ کا ہندوستان کے ساتھ شامل کرنا با وجود اس کے کہ ان میں مسلمانوں کی اکثریت تحصیل شکر گڑھ سے زیادہ ہے اور تحصیل شکر گڑھ کو پاکستان میں شامل کرنا صاف بتاتا ہے کہ اس تقسیم میں کشمیر کے لئے رستہ بنانا مدنظر تھا۔مسٹر ریڈ کلف نے بے شک گورداسپور اور بٹالہ کو ہندوستان میں شامل کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ لوئر باری دو آب کا علاقہ تقسیم نہ ہولیکن یہ بات ظاہر ہے کہ یہ محض بہا نہ تھا کیونکہ لوئر باری دو آب پھر بھی تقسیم ہوگئی۔لوئر باری دو آب کا وہ حصہ جو تحصیل لاہور کو سیراب کرتا ہے وہ پھر بھی پاکستان میں آیا۔اس سے ظاہر ہے کہ در حقیقت لوئر باری دو آب کا محض ایک بہانہ تھا۔تحصیل گورداسپور اور تحصیل بٹالہ کو ہندوستان میں شامل کرنے کی وجہ لوئر باری دوآب کی تقسیم کا خوف نہیں تھا کیونکہ یہ تقسیم خود اسی ایوارڈ میں موجود ہے۔ان دونوں تحصیلوں کو ہندوستان میں شامل کرنے کا باعث صرف بٹالہ پٹھانکوٹ ریلوے کو ہندوستان یونین میں لانا تھا۔اس ریل کے ہندوستان یونین میں جانے کے بغیر کشمیر ہندوستان کے ساتھ مل نہیں سکتا تھا۔پس جب لارڈ مونٹ بیٹن کشمیر گئے تو ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ کشمیر کو ہندوستان یونین سے ملانے کے لئے بٹالہ اور گورداسپور کی تحصیلوں کو ہندوستان یونین میں ملانا ضروری ہوگا اور جب سر ریڈ کلف نے اپنا ایوارڈ دیا تو ان کے ذہن میں بھی یہ بات تھی کہ کشمیر کو ہندوستان یونین میں ملایا جائے گا اس لئے تحصیل گورداسپور اور تحصیل بٹالہ کی مسلم اکثریت کو عقل اور انصاف کے خلاف قربان کر دینا ضروری ہے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔پس جب لارڈ مونٹ بیٹن مہاراجہ کشمیر سے ملنے کیلئے گئے اور کانگرس نے مہاراجہ کشمیر پر زور دینا شروع کیا کہ وہ ہندوستان یونین کے ساتھ شامل ہوں تو اس کے معنی یہ تھے کہ ان لوگوں نے گورداسپور اور بٹالہ کو ہندوستان یونین میں شامل کرنے کا پہلے سے فیصلہ کیا ہوا تھا اور جب سر ریڈ کلف نے گورداسپور اور بٹالہ کو خلاف انصاف اور خلاف عقل ہندوستان یونین میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے یہ معنی تھے کہ کشمیر کو ہندوستان یونین میں شامل کرنے کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان نتائج کو صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں انگلستان کی دو بڑی ہستیوں پر خطرناک الزام عائد ہوتا ہے مگر اس میں بھی کوئی قحبہ