انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 208

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۸ الفضل کے اداریہ جات دوسرے دن ایک سب انسپکٹر پولیس جو چھٹی پر قادیان گیا ہوا تھا کسی ذریعہ سے جس کا ظاہر کرنا مناسب نہیں لاہور پہنچا اور اُس نے بہت سی تفاصیل بیان کیں۔اُس کے بعد ایک ملٹری گاڑی میں جو قادیان بعض مغربی پنجاب کے افسروں اور بعض مشرقی پنجاب کے افسروں کو جو قادیان کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجی گئی تھی میں بعض اور لوگ تھے جنہوں نے اور تفصیل بیان کی۔ان حالات سے معلوم ہوا کہ حملہ سے پہلے کرفیو لگا دیا گیا تھا پہلے قادیان کی پرانی آبادی پر جس میں احمد یہ جماعت کے مرکزی دفاتر واقع ہیں حملہ کیا گیا۔اس حصہ کے لوگ اس حملہ کا مقابلہ کرنے لگے انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ باہر کے محلوں پر بھی تھوڑی دیر بعد حملہ کر دیا گیا ہے یہ لوگ سات گھنٹہ تک لڑتے رہے اور اس خیال میں رہے کہ یہ حملہ صرف مرکزی مقام پر ہے باہر کے مقام محفوظ ہیں چونکہ جماعت احمدیہ کا یہ فیصلہ تھا کہ ہم نے حملہ نہیں کرنا بلکہ صرف دفاع کرنا ہے اس لئے تمام محلوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب تک ایک خاص اشارہ نہ کیا جائے کسی محلہ کو با قاعدہ لڑائی کی اجازت نہیں۔جب افسر یہ تسلی کر لیں کہ حملہ اتنا لمبا ہو گیا ہے کہ اب کوئی شخص یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ احمد یہ جماعت نے مقابلہ میں ابتداء کی ہے وہ مقررہ اشارہ کریں گے اُس وقت جماعت منظم طور پر مقابلہ کرے گی۔اس فیصلہ میں ایک کو تا ہی رہ گئی وہ یہ کہ اس بات کو نہیں سوچا گیا کہ اگر پولیس بیرونی شہر اور اندرونی شہر کے تعلقات کو کاٹ دے تو ایک دوسرے کے حالات کا علم نہ ہو سکے گا۔پس ان حالات میں ہر محلہ کا الگ کمانڈر مقرر ہو جانا چاہئے جو ضرورت کے وقت آزادانہ کارروائی کر سکے۔یہ غلطی اس وجہ سے ہوئی کہ قادیان کے لوگ فوجی تجربہ نہیں رکھتے وہ تو مبلغ ، مدرس، پروفیسر، تاجر اور زمیندار ہیں ہر قسم کے فوجی نقطہ نگاہ پر حاوی ہونا ان کے لئے مشکل ہے۔بہر حال یہ غلطی ہوئی اور باہر کے محلوں نے اس بات کا انتظار کیا کہ جب ہم کو وہ اشارہ ملے گا تب ہم منتظم مقابلہ کریں گے لیکن اُس وقت اتفاق سے سب ذمہ دار کا رکن مرکزی دفاتر میں تھے اور باہر کے محلوں میں کوئی ذمہ دار افسر نہیں تھا اور مرکز کے لوگ غلطی سے یہ سمجھ رہے تھے کہ حملہ صرف مرکزی مقام پر ہے باہر کے محلوں پر نہیں اور باہر کے محلے یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے حالات کا علم مرکزی محلہ کو ہوگا کسی مصلحت کی وجہ سے اُنہوں نے ہمیں مقابلہ کرنے کا اشارہ نہیں کیا۔سات گھنٹہ کی لڑائی کے بعد جب مرکزی