انوارالعلوم (جلد 19) — Page 207
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۷ الفضل کے اداریہ جات اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ قادیان کی خونریز جنگ اکتوبر کی پہلی تاریخ کو جب گورداسپور کی ملٹری نے قادیان میں کنوائے جانے کی ممانعت کردی تو میں اُسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اب قادیان پر ظلم توڑے جائیں گے۔لاہور میں کئی دوستوں کو میں نے یہ کہہ دیا تھا اور مغربی پنجاب کے بعض حکام کو بھی اپنے اس خیال کی اطلاع دے دی تھی۔اس خطرہ کے مد نظر ہم نے کئی ذرائع سے مشرقی پنجاب کے حکام سے فون کر کے حالات معلوم کئے لیکن ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ قادیان میں بالکل خیریت ہے اور احمدی اپنے محلوں میں آرام سے بس رہے ہیں صرف سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے کنوائے کو روکا گیا لیکن جب اس بات پر غور کیا جاتا کہ لاہور او یکیویشن(Evacuation) کمانڈر کی طرف سے مشرقی پنجاب کے ملٹری حکام کو بعض کنوائز کی اطلاع دی گئی اور انہیں کہا گیا کہ اگر قادیان کی طرف کنوائے جانے میں کوئی روک ہے تو آپ ہم کو بتا دیں۔میجر چمنی سے بھی پوچھا گیا اور بریگیڈیئر پر نج پائے متعینہ گورداسپور سے بھی پوچھا گیا تو ان سب نے اطلاع دی کہ قادیان جانے میں کوئی روک نہیں باوجود اس کے جب کنوائے گئے تو ان کو بٹالہ اور گور اسپور سے واپس کر دیا گیا۔یہ واقعات پہلے شائع ہو چکے ہیں ان واقعات نے میرے شبہات کو اور بھی قوی کر دیا۔آخر ایک دن ایک فون جو قادیان سے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے نام کیا گیا تھا اتفاقاً سیالکوٹ میں بھی سنا گیا معلوم ہوا کہ قادیان پر دو دن سے حملہ ہو رہا ہے اور بے انتہاء ظلم توڑے جا رہے ہیں۔پولیس حملہ آوروں کے آگے آگے چلتی ہے اور گولیاں مار مار کر احمد یوں کا صفایا کر رہی ہے تب اصل حقیقت معلوم ہوئی۔