انوارالعلوم (جلد 19) — Page 206
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۶ الفضل کے اداریہ جات اور ہمارے سر کی طرف خون چڑھنا شروع ہو جائے گا لیکن ہمیں اپنے طبعی جذبات کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اخلاق کے تابع رکھنا چاہئے۔اسی سے دنیا میں ہماری عزت ہو گی اور اسی سے ہمارے دین کی بھلائی ہوگی۔جو ہندو یا سکھ ہمارے ملک میں رہنا چاہیں ہمیں اُن کو اپنی امانت سمجھنا چاہئے اور جولوگ اپنا مال چھوڑ گئے ہیں ہمیں اس مال کو پاکستان کی امانت سمجھنا چاہئے۔سابق مسلمانوں نے تو اپنے اخلاق کے ایسے شاندار نمونے چھوڑے ہیں کہ ہمیں اپنے لئے کسی نئے رستہ کے تجویز کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔سپین کے ایک مسلمان کو ایک عیسائی نے مار دیا۔قاتل دوڑ کر ایک بڑے محل میں داخل ہوا اور اس کے مالک سے کہا میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں مجھے پکڑنے کے لئے لوگ آرہے ہیں۔اس رئیس نے اسے اپنے مکان کے پچھواڑے میں کسی جگہ بند کر دیا جب وہ باہر نکلا تو آگے سے اسے پولیس ملی جس نے ایک لاش اُٹھائی ہوئی تھی وہ لاش انہوں نے اس کے آگے رکھ دی اور اسے بتایا کہ اس کا اکلوتا بیٹا ایک شخص نے مار دیا ہے اور وہ اس کے قاتل کی تلاش کر رہے ہیں۔وہ اس طرف بھاگا ہوا آیا ہے مگر ابھی تک اُنہیں مل نہیں سکا۔رئیس نے سمجھ لیا کہ وہ شخص جس کو اس نے پیچھے مکان میں چھپایا ہے وہی اس کے بیٹے کا قاتل ہے۔مگر وہ سچا مسلمان تھا اپنا قول دے چکا تھا۔پولیس کو اُس نے رخصت کیا اور اُس کمرہ کی طرف گیا جس میں اُس نے قاتل کو چھپا رکھا تھا۔کمرہ کھول کر اُس نے کچھ روپیہ اس قاتل کے ہاتھ میں رکھا اور کہا کہ پچھواڑے کی طرف سے نکل کر بھاگ جاؤ۔پولیس تمہاری تلاش میں ہے۔یہ روپیہ میں تمہیں دیتا ہوں تا کہ تمہارے بھاگنے میں مدد دے۔باقی مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ تم قاتل ہو اور جس شخص کو تم نے مارا ہے وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے مگر مسلمان غدار نہیں ہوتا میں تمہیں پناہ دے چکا ہوں اب میں تم پر ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔یہ اسلامی اخلاق ہیں جن کی وجہ سے اسلام دنیا میں پھیلا ، یہ اسلامی اخلاق ہیں جن کی وجہ سے اسلامی مبلغوں کے سامنے تمام دنیا کی آنکھیں نیچی رہتی تھیں۔ہمیں پھر ان اسلامی اخلاق کو زندہ کرنا چاہئے۔غم وغصہ سے ہمارے دل مرتے ہیں تو مرنے دو کٹتے ہیں تو کٹنے دو۔ہمارے مدنظر صرف ایک چیز رہنی چاہئے کہ اسلام زندہ ہو اور اسلام کی فوقیت دنیا کے تمام مذہبوں اور طریقوں پر ظاہر ہو۔( الفضل لا ہور ۸/اکتوبر ۱۹۴۷ء)