انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 151

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵۱ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات بوسیدہ ہو چکا تھا اُتار کر پھاڑ دیا اُس کے بعد انہوں نے تلوار میں ہاتھ میں لیں اور شعب ابی طالب کے دروازے پر پہنچے اور محصورین کو اپنی تلواروں کی چھاؤں میں وہاں سے نکال لائے۔جب وہ نوجوان اس معاہدہ کے خلاف تلواریں لے کر کھڑے ہوئے تو اُس وقت اللہ تعالی عرش پر کہ رہا تھا آلیس الله بکاف عبده اے محمد ﷺ ! کیا ہم اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ اب دیکھو دشمنوں کو کس نے تحریک کی تھی کہ وہ اس معاہدہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور پھر اس کیڑے کو جس نے معاہدہ کا کا غذ کھایا تھا اور بوسیدہ کیا تھا کس نے تحریک کی تھی کہ وہ معاہدہ کو کھا جائے یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور آليس الله بکاف عبده کا نمونہ تھا۔معاہدہ کی تحریر کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ آپ محصور تھے ایک دن اپنے چچا حضرت ابو طالب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے ک وہ معاہدہ جو ہمارے خلاف لکھا گیا تھا اور کعبہ کی دیوار کے ساتھ آویزاں کیا گیا تھا اُس کا کاغذ کھایا جا چکا ہے۔روایات میں لکھا ہے کہ ابو طالب فوراً خانہ کعبہ میں گئے جہاں بہت سے رؤسائے قریش مجلس لگائے بیٹھے تھے اور انہوں نے جاتے ہی کہا اے قریش ! تمہارا یہ ظالمانہ معاہدہ کب تک چلے گا محمد نے مجھے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس معاہدہ کی تحریر کومحو کر دیا ہے تم اس معاہدہ کو نکالو تا کہ دیکھیں کہ میرے بھتیجے کی بات کہاں تک درست ہے۔چنانچہ معاہدہ دیوار سے اتروا کر دیکھا گیا تو واقعی وہ سب کرم خوردہ ہو چکا تھا۔اس پر قریش کے وہ شریف الطبع لوگ جو اس ظالمانہ معاہدہ کے خلاف ہو چکے تھے اور جن کے دل میں انصاف، رحم اور قرابت داری کے جذبات پیدا ہو رہے تھے ان کو معاہدہ کے خلاف آواز اُٹھانے کا موقع ہاتھ آ گیا۔چنانچہ انہوں نے کاغذ پھاڑ دیا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔اسے اس کے بعد مکہ والوں نے فیصلہ کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھ کوئی شخص بات چیت نہ کرے اور نہ اس کی بات کو سنے اور یہ آپ کے لئے نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ ایک نبی کے لئے سب سے بڑی تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کی بات نہ سنیں اور اس کے ساتھ نہ بولیں۔خدا تعالیٰ کے نبی تو یہ چاہتے ہیں کہ خواہ لوگ اُن کو جی بھر کر گالیاں دے لیں مگر کم از کم اُس پیغام