انوارالعلوم (جلد 19) — Page 135
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۵ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔صلى الله کے وقت جبکہ آسمان سے آگ برس رہی ہوتی تھی، جب کہ ملکہ کا پتھریلہ میدان دہکتے ہوئے انگاروں سے بھی زیادہ گرم ہوتا تھا، جب کہ جھلس دینے والی گرمی پڑ رہی ہوتی تھی ، جب تمازت آفتاب اپنے پورے شباب پر ہوتی تھی اور جب کہ زمین و آسمان کی حد ت مل جل کر زمین کے ذرے ذرے کو آگ سے بھی زیادہ گرم کر رہی ہوتی تھی اُس وقت میں ان کے کپڑے اُتار کر ننگے بدن کے ساتھ زمین پر لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے بھاری پتھر جن میں سے شدت گرمی کی وجہ سے غبار سے اُٹھ رہے ہوتے تھے ان کے سینے پر رکھ دیتا تھا اور کہتا تھا اے بلال! تو محمد کو چھوڑ دے اور لات اور عزیٰ کی پرستش کر ورنہ اسی طرح عذاب دے دے کر ماروں گا۔اُس وقت وہ بلال جس کے ہونٹوں پر پڑی سی جمی ہوتی تھی ، جس کی زبان پیاس کی وجہ سے تالو کے ساتھ لگ رہی ہوتی تھی، جس کی نگی پیٹھ کا چھڑا جھلس رہا ہوتا تھا ، جس کا سینہ گرم اور بھاری پتھروں کے بوجھ تلے جلا اور دبا جا رہا ہوتا تھا اور جس کا سر بھوک اور پیاس اور گرمی کی شدت سے چکرا رہا ہوتا تھا اُس کے انہی پیڑی جمے ہوئے ہونٹوں اور اسی تالو سے لگی ہوئی خشک زبان میں سے ایک آواز نکلتی تھی ، ہاں اُس قریب المرگ اور موت کے بوجھ کے نیچے دے ہوئے انسان کے منہ سے ایک بار یک سی آواز نکلتی تھی وہ آواز کیا ہوتی تھی وہ آواز ہوتی تھی اَحَدٌ اَحَدٌ ۱۳ اُس وقت اللہ تعالی عرش پر بیٹھا ہوا کہتا ہوگا آلیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَةً اے محمد ﷺ تو اس پر ظلم ہوتے دیکھتا ہے اور تو چاہتا ہے کہ اس کو چھڑا لے مگر تو اُس کو چھڑا نہیں سکتا ، اے محمد! تو چاہتا ہے کہ اس کو تسلی دے مگر تو اس کو تسلی بھی نہیں دے سکتا مگر اے محمد ! کیا میں موجود نہیں ہوں کہ اس کو تسلی دوں اور اس کی توحید کی تڑپ کو مضبوط کر دوں اور اس کے ایمان میں زیادتی کردوں؟ اس کے بعد قریش مکہ کے مظالم بڑھنے شروع ہوئے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر کو خیال آیا کہ یہاں سے کسی اور جگہ چلے جانا چاہئے جہاں امن اور چین کی زندگی بسر کی جا سکے اور جہاں آزادی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کی جا سکے اور جہاں آزادی کے ساتھ خدائے واحد کی پرستش کی جا سکے۔حضرت ابوبکر کے اس ارادہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہی ہوئی آپ کے لئے اتنے دیرینہ اور وفادار اور غمگسار دوست کی جدائی سخت تکلیف دہ تھی مگر آپ