انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 134

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۳۴ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔باز نہیں رہ سکتا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں میں بعض غلام بھی تھے اور غلاموں کے متعلق مکہ والوں کا قانون یہ تھا کہ مالک کو اپنے غلام پر پورا حق حاصل ہے وہ چاہے اسے مارے یا پیٹے یا قتل کر دے یا بھوکا رکھے یا پیاسا رکھے مالک کوحق حاصل تھا کہ وہ اپنے غلام کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے اور جس طرح ایک مالک کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنے بیل کو جوتے وہ شام کو جوت لے یا صبح کو ، دو پہر کو جوت لے یا آدھی رات کے وقت یا وہ اپنے اونٹ سے جس طرح چاہے کام لے اور اپنے گھوڑے پر جس وقت اور جس طرح چاہے سواری کرے اسی طرح غلاموں کے متعلق مکہ والوں کا قانون تھا کہ جب اور جس طرح مالک چاہیں اپنے غلاموں کے ساتھ سلوک کر سکتے ہیں۔چنانچہ جو غلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اُن کے مالکوں نے انہیں طرح طرح کی سزائیں دیں قسم قسم کی اذیتیں دیں اور انواع و اقسام کے دُکھ دیئے۔آپ جب ان مظالم کو دیکھتے تو آپ کے دل میں درد پیدا ہوتا تھا مگر مکہ کے قانون کے مطابق آپ اُن کی کوئی مدد نہ کر سکتے تھے۔آپ پر ان مظالم کو دیکھ کر بڑا اثر ہوتا تھا اور ہونا چاہئے تھا کہ ان مظالم کی وجہ سے اور مصائب اور شدائد کی وجہ سے وہ لوگ کسی قسم کی کمزوری نہ دکھا جائیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ ایمان پر قائم رہ کر خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث ہوں اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے مورد ہوں اُس کے غضب کے مورد نہ بن جائیں۔ان غلاموں میں سے ایک حضرت بلال بھی تھے ان کی زبان صاف نہ تھی اس لئے جب وہ اذان دیتے تھے تو بجائے اَشْهَدُ کے اَسْهَدُ کہتے تھے جب وہ نئے نئے مدینہ میں گئے اور انہوں نے اذان کہی اور اَشهَدُ کی بجائے اسهَدُ کہا تو مدینہ کے لوگ جن کو اُن کی قربانیوں کا علم نہ تھا ہنس پڑے اُن کے نزدیک بلال تو صرف ایک حبشی غلام تھا مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ بلال عرش پر کن انعامات کا مستحق قرار پاچکا ہے۔ایک دن مدینہ کے لوگ بیٹھے آپس میں بلال کے اَسهَدُ کہنے کے متعلق باتیں کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ بلال کے اسهَدُ کہنے پر ہنستے ہو مگر خدا تعالی عرش پر بلال کے اَسهَدُ کو پیار کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔غرض جب مکہ کے کفار نے مسلمانوں پر اور بالخصوص غلاموں پر مظالم ڈھانے شروع کئے تو حضرت بلال کا مالک عین دو پہر