انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 121

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۱ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات بتا ہم نے تیری شادی کا انتظام کیا یا نہ کیا ؟ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر مرد غریب ہو اور عورت امیر ہو تو مرد کو بسا اوقات ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ہمارے ایک نانا تھے جن کے گھر نواب لوہارو کی بیٹی تھیں اور وہاں سے ہی اُن کو اخراجات کے لئے کچھ رقم آ جاتی تھی۔ہمارے نانا کام تو کرتے تھے اور بیس پچیس روپیہ ماہوار آمدن بھی ہو جاتی تھی مگر اُن کا دستور تھا کہ سارا دن کام کرتے اور جو رقم آتی اس میں سے صرف ایک روپیہ ماہوار اپنے اوپر خرچ کرتے تھے ، اُسی میں سے کپڑے کی دھلائی اور باقی ضرورتیں پوری کر لیا کرتے تھے ، کھانے کے لئے اُن کو ایک چپاتی کافی تھی باقی رقم وہ ساری جمع رکھتے تھے اُن کو اس بات کا بہت زیادہ احساس تھا گھر میں جو کچھ خرچ ہونا ہے یہ بیوی کا مال ہے مجھے اپنی ضروریات پر یہ روپیہ صرف نہیں کرنا چاہئے۔اُن کو چائے پینے کا بہت شوق تھا مگر چائے میں چھوٹا سا ایک بتاشہ ڈال کر پی جاتی تھے گویا انہوں نے اپنے نفس کو مارا ہوا تھا صرف اس لئے کہ گھر میں جو کچھ خرچ ہوتا تھا وہ بیوی کا مال تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد اُن کی بیوی کے والد یعنی اُن کے سر فوت ہو گئے اور بھائیوں نے روپیہ بھجوانا بند کر دیا اس پر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تمہارے والد نے جو رقم مجھے اتنا عرصہ بھیجی تھی اب میں تم کو با قاعدہ دوں گا۔چنانچہ انہوں نے وہ جمع شدہ رقم ساری کی ساری بیوی کو دے دی۔اب دیکھو یہ بات طبیعت پر کتنی گراں گزرتی ہے کہ خاوند غریب ہو اور بیوی امیر ہو اور خاوند بیوی کا مال کھاتا رہے۔مگر جہاں خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ آپ کی شادی حضرت خدیجہ جیسی امیر عورت سے ہوگئی وہاں ایک ابتلاء آپ کے لئے یہ بھی تھا کہ حضرت خدیجہ بہت زیادہ امیر تھیں اور آپ غریب تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اس ابتلاء کو اس طرح دُور کیا کہ کچھ عرصہ کے بعد حضرت خدیجہ کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اتنا خود دار اور نیک خاوند میرے مال کو برداشت نہ کر سکے گا اس لئے اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اپنا سارا مال آپ کے حوالے کر دے یہ سوچ کر حضرت خدیجہ نے ایک دن آپ سے کہا میں ایک عرض کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے فرمایا خدیجہ! کیا بات ہے؟ حضرت خدیجہ نے کہا میں چاہتی ہوں کہ اپنا سارا مال و متاع اور غلام آپ کے سپر د کر دوں۔آپ نے فرمایا خدیجہ ! کیا تم نے اس بات کو اچھی طرح سوچ سمجھ لیا