انوارالعلوم (جلد 19) — Page 105
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۰۵ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل اس صورت میں بھی مختلف قوموں کی نسبت آبادی یوں ہو گی ۶۰ ۲۵۶ سکھ ۳۴۶۵۰ مسلمان اور قریباً چالیس فیصدی ہندو۔اس صورتِ حالات میں بھی سکھوں کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ سکتا پرانے پنجاب میں بھی تو سکھوں کو بائیس فیصدی نمائندگی ملی ہوئی تھی۔پس اگر جالندھر ڈویژن کا الگ صوبہ بھی بنا دیا گیا تو اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ انبالہ ڈویژن کے الگ ہو جانے کی وجہ سے انبالہ صوبہ پر کلی طور پر ہندوؤں کا قبضہ ہو۔جائے گا اور جالندھر ڈویژن میں بوجہ چالیس فیصدی رہ جانے کے سکھ اُن سے اپنے لئے زیادہ نمائندگی کا مطالبہ نہیں کر سکیں گے اور توازن بہت مضبوطی سے ہندوؤں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور وہ انبالہ کے صوبہ میں بغیر کسی سے سمجھوتہ کرنے کے حکومت کر سکیں گے اور جالندھر میں کچھ سکھوں یا مسلمانوں کو ملا کر حکومت کر سکیں گے۔ایک اور سخت نقصان سکھوں کو اس صورت میں یہ پہنچے گا کہ جالندھر ڈویژن کے سکھوں میں کمیونزم زیادہ زور پکڑ رہی ہے۔فیروز پور، لدھیانہ اور ہوشیار پور اس کے گڑھ ہیں اس علیحدگی کی وجہ سے ان لوگوں کی آواز بہت طاقت پکڑ جائے گی۔اور ا کالی پارٹی چند سالوں میں ہی اس خطر ناک بلاء کا مقابلہ کرنے سے اپنے آپ کو بے بس پائے گی خصوصاً جب کہ سیاسی چالوں کی وجہ سے بعض خود غرض پارٹیاں کمیونسٹوں کی مدد کر نے پر آمادہ ہو جائیں گی جیسا کہ گذشتہ الیکشن پر سکھ صاحبان کو تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔سکھوں کے میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کافی روشنی ان خطرات پر ڈال دی ہے جو سکھوں کو پیش آنے والے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ۲۳ جون کو ہونے والی اسمبلی کی میٹنگ میں وہ ان امور کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ سب سے زیادہ اثر عوام سکھ پڑنے والا ہے وہ بھی اپنے لیڈروں پر زور دیں گے کہ اس خود کشی کی پالیسی سے ان کو بچایا جائے۔میں لکھ چکا ہوں کہ میں بوجہ ایک چھوٹی سی جماعت کا امام ہونے کے کوئی سیاسی غرض اس مشورہ میں نہیں رکھتا اس لئے سکھ صاحبان کو سمجھ لینا چاہئے کہ میرا مشورہ بالکل مخلصانہ اور محض ان کی ہمدردی کی وجہ سے ہے۔اگر سیاست میرے اختیار میں ہوتی تو میں انہیں ایسے حقوق دے کر بھی جن سے ان کی تسلی ہو جاتی انہیں اس نقصان سے بچا تا مگر سیاست کی طاقت میرے