انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 104

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۰۴ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل گی لیکن یہ درست نہیں لائل پور، لاہور، منٹگمری ، شیخو پورہ، گوجرانولہ اور سرگودھا کے سکھا نہری زمینوں کو چھوڑ کر بارانی زمینوں کو لینے کے لئے کب تیار ہوں گے اور اگر وہ اس پر راضی ہو گئے تو مالی لحاظ سے یہ ان کیلئے بڑا اقتصادی دھنگا ہو گا جس کی وجہ سے قومی انحطاط شروع ہو جائے گا پس پیشتر اس کے سکھ صاحبان پنجاب کے بٹوارے کے متعلق کوئی فیصلہ کریں انہیں ان سب امور پر غور کر لینا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ بعد میں اس مشکل کا حل نہ نکل سکے اور پچھتانا پڑے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر مشکلات پیدا ہوئیں اور ان کا کوئی علاج نہ نکلا تو اس وقت پھر سکھ صاحبان مغربی پنجاب میں آ سکتے ہیں لیکن یہ خیال درست نہیں اس لئے کہ اگر اب سکھ صاحبان پنجاب کے بٹوارے کے خلاف رائے دیں تو ان کے ووٹ مسلمان کے ووٹوں سے مل کر بٹوارے کو روک سکتے ہیں لیکن اگر بعد میں انہوں نے ایسا فیصلہ کیا تو یہ صاف بات ہے کہ انبالہ ڈویژن ان کے ساتھ شامل نہ ہوگا اور اگر مغربی پنجاب سے ملا تو صرف جالندھر ڈویژن ملے گا اور اُس وقت پنجاب کی یہ حالت ہوگی کہ اس میں پندرہ فیصدی سکھ ہوں گے اور پندرہ فیصدی ہندو اور ۷۰ فیصدی مسلمان حالانکہ متحدہ پنجاب کی صورت میں بیالیس فیصدی ہندو اور سکھ ہوں گے اور چھپن فیصدی مسلمان اور دو فیصدی دوسرے لوگ۔ظاہر ہے کہ چونتالیس فیصدی لوگ حکومت میں جو آواز اور اثر رکھتے ہیں وہ تمیں فیصدی لوگ کسی صورت میں نہیں رکھ سکتے۔پس بعد کی تبدیلی کسی صورت میں سکھوں کو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اس وقت کی تبدیلی پہنچا سکتی ہے کیونکہ ایک دفعہ پنجاب بانٹا گیا تو پھر انبالہ ڈویژن کو واپس لا نا سکھوں کے اختیار سے باہر ہو جائے گا۔سکھ صاحبان کو یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ابھی سے ہندوؤں کی طرف سے آواز اُٹھائی جا رہی ہے کہ یوپی کے چند اضلاع ملا کر مشرقی پنجاب کا ایک بڑا صوبہ بنا دیا جائے اگر ایسا ہو گیا تو اس نئے صوبہ میں ہندو ساٹھ فیصدی ، مسلمان تھیں فیصدی اور سکھ صرف دس فیصدی رہ جائیں گے۔بعض سکھ صاحبان یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ جالندھر ڈویژن کی ایک سکھ ریاست بنادی جائے گی بے شک اس صورت میں سکھوں کی آبادی کی نسبت اس علاقہ میں بڑھ جائے گی مگر