انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 71

انوار العلوم جلد ۱۹ 21 قومی ترقی کے دوا ہم اصول بادشاہت کے پیچھے نہیں پڑتی بلکہ وہ اپنے سامنے یہ مقصد رکھتی ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے اور جب مؤمن اس مقصد کو اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کام ہم ہی نے کرنا ہے کسی اور نے نہیں کرنا۔دنیا اور کاموں میں لگی رہتی ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کی بنیادیں رکھ رہے ہوتے ہیں پس کامیابیوں اور ترقیات کے لئے سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ قوم کے سامنے ایک مقصد عالی ہو کیونکہ جب تک مقصد عالی نہ ہوگا بیداری پیدا نہیں ہو سکے گی اور اس مقصد کے متعلق اس قوم یا جماعت کے اندر یہ احساس پایا جائے کہ یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے اور کسی نے نہیں کرنا۔جب یہ روح اس کے اندر پیدا ہو جائے گی تو اس مقصد کے حصول میں کوئی روک نہیں رہے گی۔کامیابیاں اور کامرانیاں اس کے قدم چومیں گی اور ہر میدان میں فتح کا سہرا اس کے سر پر ہو گا مگر اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ مذہبی جماعتیں زمین کی بادشاہت کے لئے جد و جہد نہیں کرتیں بلکہ وہ آسمانی بادشاہت کے لئے کوشاں رہتی ہیں جیسے حضرت مسیح نے بھی فرمایا ہے کہ اے خدا! تیری بادشاہت جیسے آسمان پر ہے ویسی ہی زمین پر بھی ہوئے یہی وجہ تھی کہ یہودیوں کے اندر غلط فہمی سے یہ احساس پیدا ہو گیا تھا کہ مسیح زمین کی بادشاہت چاہتا ہے حالانکہ وہ آسمانی بادشاہت چاہتا تھا اور عیسائیوں کے دلوں میں اس مقصد کے حصول کے لئے جوش پیدا ہو گیا تھا اور وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر ان میں سے ہر ایک قربانی کرتا تھا اور ان میں یک جہتی اور یکسوئی پائی جاتی تھی جس کی وجہ سے وہ جماعت طاقت پکڑ گئی۔پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ نے بتایا کہ مسیح" جو کہتا تھا کہ میں کچھ مدت کے بعد آسمان پر چلا جاؤں گا یہ در اصل پیشگوئی تھی کہ ایک مدت تک میری با دشاہت قائم رہے گی پھر خدا کسی اور کو بھیج دے گا جس کی حکومت دائمی ہوگی۔پس جب مسیح کی بادشاہت آسمان پر چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا۔شروع شروع میں آپ کے ساتھ دس ہیں صحابہ تھے لیکن ان میں سے ہر شخص یہ سمجھے ہوئے تھا کہ میں نے ہی خدا تعالیٰ کے دین کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ کام صرف اور صرف ہمارا ہی ہے اور اس کو ہم نے ہی سرانجام دینا ہے۔عتبہ، شیبہ، ولید اور ابو جہل وغیرہ