انوارالعلوم (جلد 19) — Page 72
انوار العلوم جلد ۱۹ ۷۲ قومی ترقی کے دو اہم اصول۔نے سرانجام نہیں دینا۔پس وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کے دین اور اس کی بادشاہت کے قیام کے لئے لگے رہے اور آخر کامیاب ہو گئے۔اس وقت ہر شخص جو اسلام کے اندر داخل ہوتا تھا وہ اس ارادہ سے آتا تھا کہ میں نے اپنی جان کو ہلاک کر دینا ہے مگر خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کر کے چھوڑنا ہے اور ان میں سے ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی کام کے متعلق یہ سمجھ لے کہ یہ میں نے ہی کرنا ہے تو اس کے اندر بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔عام طور پر ہماری جماعت کے لوگوں کا طریق ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دعا کے لئے کہتے رہتے ہیں۔ان میں سے بعض تو سنجیدگی کے ساتھ اور ضرورتا کہتے ہیں اور بعض عادتاً کہہ جاتے ہیں اور پھر جن کو دعا کے لئے کہا جاتا ہے وہ بھی ان دونوں پہلوؤں کو لیتے ہیں جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو جو دعا کے لئے کہا گیا یہ ضرورتا اور سنجیدگی کے ساتھ نہیں کہا گیا تو وہ دعا نہیں کرتا اور بھول جاتا ہے لیکن جو شخص دعا کی درخواست کرنے والے کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ اس کو واقعی کوئی مصیبت در پیش تھی اور اس نے مجھ سے دعا کی قبولیت پر یقین رکھتے ہوئے دعا کی درخواست کی ہے وہ ضرور دعا کرتا ہے اور ایسی دعا ہی اللہ تعالیٰ کے حضور قبول ہوتی ہے۔مثلاً مجھے اپنا ایک واقعہ یاد ہے کہ ۱۸۔۱۹۱۷ ء میں ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب انگریزی فوج میں بھرتی ہو کر بغداد گئے۔ان کے بھائی نذیر احمد صاحب یہاں تھے۔وہ ہمارے چھوٹے بھائی میاں شریف احمد صاحب کے ساتھ پڑھتے رہے تھے۔اُن دنوں ہمارا طریق تھا کہ ہم حضرت اماں جان مدظلہ العالی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا کرتے تھے ایک دن ہم کھانا کھا رہے تھے تو عزیزم میاں شریف احمد صاحب نے مجھے بتایا کہ انہیں نذیراحمد صاحب نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب مارے گئے ہیں اور یہ خبر ان کو گورنمنٹ کی طرف سے ملی ہے۔اس سے کچھ دن پیشتر انہی ڈاکٹر صاحب کی والدہ اور والد صاحب یہاں آئے تھے اور میں نے ان دونوں کو دیکھا تھا وہ دونوں بہت ضعیف تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب ان کے اکلوتے بیٹے ہیں حالانکہ وہ سات بھائی تھے۔جب میں نے ان کے مارے جانے کی خبر سنی تو مجھے ان کے بوڑھے والدین کا خیال کر کے بہت صدمہ ہوا اور میں نے خیال کیا کہ ان بے چاروں کا وہی ایک بیٹا بڑھاپے کا سہارا تھا اب ان کا کیا حال ہو گا۔چنانچہ