انوارالعلوم (جلد 19) — Page 57
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۷ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں کی خبر دی تو اس نے پھر بھی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہی پڑھا لیکن جب میں نے اس کے خاوند کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا ہائے افسوس! اور وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی اور گھبرا گئی۔پھر آپ نے فرمایا عورت کو ایسے وقت میں اپنے عزیز ترین رشتہ داروں اور خونی رشتہ دار بھول جاتے ہیں لیکن اُسے محبت کرنے والا خاوند یا د رہتا ہے اس کے بعد آپ نے زینب سے پوچھا۔تم نے اپنے خاوند کی وفات کی خبر سن کر ہائے افسوس کیوں کہا تھا ؟ زینب نے عرض کیا یا رَسُولَ الله! مجھے اس کے بیٹے یاد آ گئے تھے کہ ان کی کون رکھوالی کرے گا؟ آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی تمہارے خاوند سے بہتر خبر گیری کرنے والا کوئی شخص پیدا کر دے۔سے چنانچہ اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ زینب کی شادی حضرت طلحہ کے ساتھ ہوئی اور ان کے ہاں محمد بن طلحہ پیدا ہوا۔مگر تاریخوں میں ذکر آتا ہے حضرت طلحہ اپنے بیٹے محمد کے ساتھ اتنی محبت اور شفقت نہیں کرتے تھے جتنی کہ زینب کے پہلے بچوں کے ساتھ۔اور لوگ یہ کہتے تھے کہ کسی کے بچوں کو اتنی محبت سے پالنے والا طلحہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا نتیجہ تھا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اُس وقت سعد بن معاذ آپ کی سواری کی باگ پکڑے ہوئے آپ کے آگے آگے خوشی کے ساتھ چل رہے تھے اور ان کو خوشی یہ تھی کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ واپس مدینہ میں لا رہے۔ہیں حضرت سعد بن معاذ کی بوڑھی اور کمزور نظر والدہ بھی مدینہ کی عورتوں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لئے باہر آ رہی تھیں اور چونکہ اس سے پیشتر مدینہ میں آپ کی وفات کی خبر مشہور ہو چکی تھی اس لئے وہ سُن کر کہ آپ صحیح سلامت تشریف لا رہے ہیں وفور محبت سے آپ کی زیارت کے لئے باہر آ گئی تھیں حضرت سعد نے جب اپنی والدہ کو دیکھا تو شاید اس خیال سے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں کہ میری بوڑھی والدہ کے دل میں بھی آپ کے لئے کتنی محبت ہے کہ وہ با وجود نظر کی کمزوری اور ضعیفی کے لڑکھڑاتی ہوئی چل رہی ہیں اور وہ آپ کی زیارت کیلئے بے تاب ہیں عرض کیا يَا رَسُولَ الله! میری ماں - يَارَسُولَ الله میری ماں۔آپ نے فرمایا سواری کو روک لو۔سواری جب بڑھیا کے قریب پہنچ کر رُکی تو آپ نے اُس بڑھیا کو فرمایا بی بی ! مجھے