انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 52

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۵۲ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں شرارتوں اور دُکھوں کی وجہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر کے گئے تو اس میں بھی ہمیں بہت سے نشانات نظر آتے ہیں۔جب کفار مکہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے تمام مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا اور آپ کو اور آپ کے صحابہ کو متواتر تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور ہونا پڑا تو اس میں بھی ہمیں بہت سے نشانات نظر آتے ہیں، سفر طائف میں جب آپ کو کفار نے تکالیف پہنچا ئیں تو اس میں بھی ہمیں بہت سے نشانات نظر آتے ہیں ، جب آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے لئے گئے تو اس میں بھی ہمیں نشانات نظر آتے ہیں، اسی طرح بدر کی جنگ میں بھی ہمیں بہت سے نشانات نظر آتے ہیں ، اُحد کی جنگ میں بھی جس میں مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصانات اُٹھانے پڑے اور کئی اکا بر صحابہ شہید ہو گئے اللہ تعالیٰ کے بہت سے نشانات ہیں، احزاب کی جنگ میں بھی ہمیں بہت سے نشانات نظر آتے ہیں صلح حدیبیہ اور غزوہ حنین میں بھی بہت سے نشانات ہیں پھر غزوہ تبوک جو مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا ابتلاء تھا اس میں بھی بہت سے نشانات ہیں ، سب سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اُمت کے لئے بہت ہی بڑا ابتلاء تھا مگر اس میں بھی ہمیں بہت سے نشانات نظر آتے ہیں۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو بھی دُکھ آپ کو پہنچا، جو بھی تکالیف آپ کو پہنچی ، جو بھی رنج آپ کو پہنچا، جو بھی مصیبت آپ پر آئی اور جس وقت کا بھی آپ کو سامنا ہوا ان میں سے ہر ایک کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات مخفی تھے اور ان میں سے ہر واقعہ اپنے اندر مؤمنوں کی ترقیوں اور کامیابیوں کے سامان لئے ہوئے تھا۔اس وقت میں غزوہ اُحد کو لیتا ہوں غزوہ اُحد مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا ابتلاء تھا اور ساتھ ہی یہ مصیبت پیش آئی کہ جنگ کے شروع ہونے سے پیشتر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ لیا کہ ہمیں مدینہ کے اندر رہ کر جنگ کرنی چاہئے یا با ہر نکل کر ؟ تو اُس وقت تو منافقین نے یہ کہا کہ ہمیں باہر جا کر ہی لڑنا چاہئے مگر بعد میں انہوں نے آپ سے غداری کی اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے کے لئے تیار ہوئے تو منافقین نے جانے سے انکار کر دیا اور انہوں نے کہہ دیا کہ یہ بھی کوئی لڑائی ہے یہ تو خواہ مخواہ ہلاکت کے منہ میں جانے والی بات ہے۔اس جنگ میں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو بہت زیادہ تکالیف پہنچیں اور بہت