انوارالعلوم (جلد 19) — Page 53
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۳ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا۔ستر صحابہ شہید ہو گئے جن میں سے پانچ مہاجرین میں سے تھے اور باقی پینسٹھ انصار میں سے تھے اور شہید ہونے والے صحابہ تھے بھی چوٹی کے صحابہ جن کی موت کی وجہ سے یوں کہنا چاہئے کہ سارا مدینہ ہل گیا تھا پھر یہ جنگ اس لئے بھی اسلام کی شدید ترین جنگوں میں شمار کی جاتی ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے آپ کے دندانِ مبارک ٹوٹ گئے لے اور بعض صحابہ جو آپ کے دائیں بائیں کھڑے آپ کی حفاظت کے لئے لڑ رہے تھے اور دشمن کے واروں کو اپنے اوپر لے رہے تھے ان میں سے بھی بعض مارے گئے اور ان کی لاشیں آپ پر گر گئیں گویا یہ تمام سامان موت کے ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ رکھا۔آپ جب زخمی ہو کر اور بے ہوش ہو کر گر پڑے تو یہ وقت صحابہ کے لئے ایک بہت ہی بڑے ابتلاء اور امتحان کا وقت تھا ان میں لڑنے کی سکت نہ رہی تھی اور جب تک آپ ہوش میں آ کر نہ اُٹھے اُس وقت تک صحابہ یہی سمجھتے رہے کہ اب ہمارے لئے دنیا تاریک ہو چکی ہے کیونکہ جب آپ شہید ہو چکے ہیں تو ہمارا لڑ نا اب بالکل بے کار ہے۔اس چیز کا نتیجہ ان کے لئے ٹھو کر اور ابتلاء کا باعث ہوسکتا تھا لیکن اس کے اندر بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کے بہت سے نشانات نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ابتلاؤں میں اعلیٰ نشانات ظاہر کرتا ہے۔مثلاً ابتلاؤں ، دکھوں اور مصیبتوں کے وقت انسان کے اخلاق کا پتہ لگتا ہے اگر انسان پر کوئی مصیبت نہ آئے تو اُس کے اخلاق کا پتہ نہیں لگ سکتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسان جو اخلاق خوشی ، راحت اور آرام کے وقت دکھاتا ہے وہ مصیبت دکھ اور رنج پہنچنے پر سب بھول جاتا ہے۔جب کبھی اس کی حالت سکون سے بے چینی میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے سب اخلاق دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور وہ بداخلاقی پر اتر آتا ہے۔ہمارے ملک میں دہلی اور لکھنو کے امراء کے اخلاق مشہور ہیں اور ان دونوں جگہوں کے امراء ایک دوسرے پر فضیلت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔دہلی والے کہتے ہیں کہ ہم زیادہ با اخلاق اور متمدن ہیں۔لکھنو میں سادات کی بادشاہت تھی اس لئے عام طور پر وہاں کے امراء کو میر صاحب کہا جاتا ہے اور دہلی میں چونکہ مغل بادشاہت رہی ہے اس لئے وہاں کے امراء کو مرزا صاحب کہا جاتا ہے اب تو دہلی وہ نہیں رہی جو آج سے پچاس سال پیشتر تھی مگر آج سے