انوارالعلوم (جلد 19) — Page 614
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۱۴ پاکستان ایک اینٹ ہے اُس اِسلامی عمارت کی جسے ہم ۔۔۔ پڑھ لیا کہ اب وہ اس میدان سے واپس نہیں لوٹیں گے سوائے اس کے کہ وہ کامیابی حاصل کر لیں یا اسی جگہ لڑتے ہوئے جان دے دیں۔ جب یہ جذبات کسی قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ اسے عام سطح سے بہت اونچا کر دیتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کچھ اور باتیں بھی ہیں جن کو ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ انتقام کا جذ بہ صرف نقصان پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ احساس نقصان پر بنی ہوتا ہے۔ ایک شخص کے اگر دس روپے کوئی شخص چرا کر لے جائے اور اسے محسوس بھی نہ ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ انتقام پیدا نہیں ہوگا لیکن دوسرے شخص کا اگر صرف ایک روپیہ کوئی شخص چرا لیتا ہے اور اسے اس کی چوری کا احساس ہوتا ہے تو اس کے اندر یقیناً جذبہ انتقام پیدا ہو جائے گا ۔ پس جذبات حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں ۔ بلکہ احساس حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں ۔ اگر ہم کو شدید سے شدید نقصان بھی پہنچا ہے لیکن ہمیں اس نقصان کا احساس نہیں تو محض نقصان اس بات کی دلیل نہیں ہوگا کہ ہمارے اندر جذبہ انتقام پیدا ہو گیا ہے۔ یہی حال محبت کا ہے وہ بھی احساس پر مبنی ہوتی ہے۔ ایک حبشی کو اپنا کالا کلوٹا بچہ ہی خوبصورت نظر آتا ہے حالانکہ دوسرے کی نگاہ میں وہ بدصورت ہوتا ہے ۔ غرض انتقام کا جذ بہ یا محبت کا جذبہ دونوں احساس پر مبنی ہوتے ہیں ۔ جتنے احساسات تیز ہوں اُتنا ہی یہ جذبہ بڑھا ہوا ہوتا ہے اور جتنے احساسات کم ہوں اتنا ہی اس جذبہ کا فقدان ہوتا ہے۔ پس ہمیں صرف اپنے نقصان کا ہی نہیں بلکہ احساسِ نقصان کا بھی جائزہ لینا پڑے گا ۔ اسی طرح ہمیں دوسرے فریق کے نقصان اور اس کے احساسِ نقصان کا بھی جائزہ لینا پڑے گا ۔ اگر اس کے بغیر ہم کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو در حقیقت وہ صحیح فیصلہ نہیں کہلا سکتا ۔ دوسری چیز جو پاکستان کے مستقبل کے متعلق ہمیں ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل محض اسلام کو اپنی عملی زندگی میں داخل کرنے کے ساتھ وابستہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ اس بناء پر کیا تھا کہ ہماری تہذیب الگ ہے اور ہندو تہذیب الگ ۔ جب مسلمانوں نے یہ مطالبہ کیا اُس وقت پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے ایک مضمون لکھا تھا کہ بتاؤ تمہاری کونسی تہذیب ہے جو ہندوستانی تہذیب سے الگ ہے ۔ ہم اُس وقت کہہ سکتے تھے کہ یہ چیز عمل سے تعلق رکھتی ہے ۔ عمل کا موقع آئے گا تو ہم تمہیں بتائیں گے کہ