انوارالعلوم (جلد 19) — Page 611
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۱۱ پاکستان ایک اینٹ ہے اُس اسلامی عمارت کی جسے ہم۔۔۔جہاں ایک طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی چیز کے حصول کے بعد مخالفت بڑھ جاتی ہے، وہاں دوسری طرف ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جب کوئی چیز مل جاتی ہے تو بسا اوقات اس چیز کو حاصل کرنے والے کے دل سے اس کی عظمت مٹ جاتی ہے اور وہ اس چیز کو کھو بیٹھتا ہے۔چنانچہ دنیا میں کثرت کے ساتھ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض لوگوں نے بڑے بڑے کام کئے اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے اُنہوں نے سرتوڑ کوششیں کیں مگر جب مقصد حاصل ہو گیا تو مطمئن ہوکر بیٹھ گئے اور اس طرح وہ چیز جس کے حصول کے لئے اُنہوں نے سالہا سال قربانیاں کی تھیں اسے اپنی غفلت سے ضائع کر بیٹھے۔آج سے تمہیں سال پہلے جب بلقان کی ریاستوں اور ٹرکی کی آپس میں جنگ ہوئی تو بلقانی ریاستیں جیت گئیں اور ٹرکی شکست کھا گیا مگر جب اسے شکست ہوگئی تو بلقانی ریاستوں میں مال بانٹنے پر آپس میں لڑائی شروع ہو گئی اور وہی لوگ جو پہلے متحد ہو کر ٹرکی کے مقابلہ میں صف آراء تھے آپس میں لڑنے لگ گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کئی علاقے لڑکی کو واپس کرنے پڑے۔غرض دنیا میں ایسی بیبیوں مثالیں ملتی ہیں کہ جب تک جنگ جاری رہی لوگ قربانیاں کرتے رہے مگر جب کامیابی ہو گئی تو انہیں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا اور وہ اتحاد و یک جہتی سے رہنے کی بجائے متفرق ہو گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز آ چکی تھی وہ بھی ان کے ہاتھوں سے جاتی رہی۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک خطرہ سامنے ہوتا ہے لوگوں کے دلوں میں بہت جوش ہوتا ہے لیکن جب خطرہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے تو وہ مطمئن ہو جاتے ہیں حالانکہ خطرہ بدستور موجو د ہوتا ہے۔بیمار کی حالت جب تک خراب ہوتی ہے تیماردار بھی اور ڈا کٹر بھی بڑی توجہ سے علاج کرتے رہتے ہیں لیکن بسا اوقات جب بیمار کی طبیعت سنبھالا لیتی ہے تو ڈاکٹر بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اسے آرام آ رہا ہے اور تیمار دار بھی اس خیال سے کہ اب تو اسے افاقہ ہے اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں یا تھکے ہوئے ہوں تو لیٹ جاتے ہیں مگر اس دوران میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔یہی حال قوموں کا ہے جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہیں خطرات ان کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور وہ ستی اور غفلت کا شکار ہو جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ