انوارالعلوم (جلد 19) — Page 602
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۰۲ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب فائرنگ کرنے سے بھی انکار کر دیا کرتی ہے وہ اتنا گندہ اقدام کرے کہ عورت جیسی چیز جس کی حرمت تمام دنیا میں تسلیم کی گئی ہے اُس کی عزت اور ننگ و ناموس چاک چاک کر دے۔ان نظاروں کے بعد یہ خیال کر لینا کہ اگر دشمن نے حملہ کیا تو ہم بھاگ کر اُس کے مظالم سے بیچ جائیں گے قطعی طور پر غلط بات ہے۔میں جب قادیان سے لاہور پہنچا تو لاہور کے ایک بڑے آدمی جو اسمبلی کے ممبر بھی ہیں مجھے سے ملنے کے لئے آئے اور اُنہوں نے بڑی گھبراہٹ میں مجھ سے ذکر کیا کہ سنا ہے اب لاہور پر بھی حملہ ہونے والا ہے اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ میں نے کہا یہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی پتہ ہے کہ لاہور پر حملہ ہوگا یا نہیں لیکن اگر حملہ ہوا تو آپ یا د رکھیں کہ ہمارے لئے صرف دو جگہ موت مقدر ہے یا لاہور کے سامنے یا کراچی کے سمندر میں تیسرا مقام کوئی نہیں۔پھر میں نے اُن سے کہا ابھی تک مشرقی پنجاب سے صرف تیں پینتیس لاکھ مسلمان آئے ہیں مگر اُن کو بسانے کے لئے بھی یہاں کوئی جگہ نہیں مل رہی۔گزشتہ ہجرت کے موقع پر میں ہزار مہاجر افغانستان گیا تھا مگر اُس کا جو انجام ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔افغانستان نے بعض کو روس کی طرف دھکیل دیا۔بعض کو ایران اور ترکی کی طرف بھجوا دیا اور کچھ لوگ پھر واپس ہندوستان آگئے اگر تمیں پینتیس لاکھ مہاجرین کو ابھی تک مغربی پنجاب میں جگہ نہیں ملی۔اگر صرف ہیں ہزار مہاجرین کو افغانستان پناہ نہیں دے سکا تو تین کروڑ مسلمان کس ملک میں سما سکتے ہیں بلکہ اگر ایسٹ پاکستان کے مسلمانوں کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد چھ سات کروڑ تک پہنچ جاتی ہے کیا دنیا میں کوئی بھی جگہ ہے جہاں یہ چھ سات کروڑ مسلمان سما سکے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اِن دوموتوں میں سے ایک موت ضرور مقدر ہے کہ لاہور کے سامنے دشمن کے ساتھ لڑتے ہوئے مریں گے یا ہم کراچی کے سمندر میں غرق ہو کر مریں گے اب تم خود ہی سوچ لو تمہیں اِن دونوں موتوں میں سے کونسی موت زیادہ پسند ہے۔تم لاہور کے سامنے دشمن سے لڑ کر عزت کی موت مرنا چاہتے ہویا دشمن سے بھاگتے ہوئے کراچی کے سمندر میں غرق ہو کر ذلت اور لعنت کی موت مرنا چاہتے ہو۔یہ الگ بات ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں فتح دے دے اور دشمن کو مغلوب کر دے لیکن اگر بھاگنے کا مرحله خدانخواستہ آیا تو سوائے اس کے کہ ہم کراچی کے سمندر میں غرق ہو کر مر جائیں ہمارے