انوارالعلوم (جلد 19) — Page 593
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹۳ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب اتفاقی طور پر قائم ہو گیا اور باوجود اس کے کہ وہ ایماندار تھے انہوں نے اسلامی نظام خلافت کو بدل دیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں یہ اسلام کے عین مطابق ہے۔آہستہ آہستہ جب خیالات ترقی پذیر ہوئے اور مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں تو انہیں محسوس ہوا کہ ہمارے ہاں تو یہ احکام پہلے سے موجود ہیں ہم اگر ڈیما کریسی اختیار کرتے ہیں تو ہم یورپ کی نقل نہیں کرتے بلکہ اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔مثلاً آزادگی مذہب کو ہی لے لو باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں لوگوں نے ڈیما کریسی کو نہیں سمجھا پھر بھی اس زمانہ میں یہودیوں سے یہودی مذہب پر اور عیسائیوں سے عیسائی مذہب پر ہی عمل کرایا جاتا تھا۔یہ نہیں تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو زبر دستی اسلام کے احکام پر عمل کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا۔یہی کام حضرت ابو بکر نے کیا ، یہی کام حضرت عمرؓ نے کیا ، یہی کام حضرت عثمان نے کیا ، یہی کام حضرت علیؓ نے کیا۔اس کے بعد بے ش بے شک مسلمانوں میں بغاوت ہوئی اور ان کا آپس کا تفرقہ اور شقاق بڑھتا چلا گیا مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ اُنہوں نے اس اصل کو ترک کر دیا ہو۔بنو امیہ آئے تو انہوں نے بھی اسی پر عمل کیا ، بنو عباس آئے تو اُنہوں نے بھی اسی پر عمل کیا، سلجوتی آئے تو انہوں نے بھی اسی پر عمل کیا ، فاطمی آئے تو اُنہوں نے بھی اسی پر عمل کیا ، ٹرک آئے تو انہوں نے بھی اسی پر عمل کیا اور وہ اسلامی تعلیم کے مطابق یہودیوں اور عیسائیوں اور دیگر تمام مذاہب کے پیروؤں کو ہمیشہ کامل آزادی دیتے رہے اور ان کے حقوق تسلیم کرتے رہے جب اسلام کمزور ہو گیا تو یوروپین قوموں نے اسی چیز کو کیسی چولیشنز (Capitulations) کے نام سے اسلام پر حملہ کا ایک ذریعہ بنالیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ پولیٹیکل حقوق تھے جو ہم نے اپنے زور بازو سے مسلمانوں سے حاصل کئے تھے مسلمانوں نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا تھا۔مسلمانوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ ہمارے لئے اتنا کافی ہے کہ ہم اسلام کی اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں حالانکہ اگر اپنے ملک میں وہ غیر مذاہب والوں کو اس لئے آزادی دے رہے تھے کہ اسلام نے اس آزادی کا حکم دیا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ دوسری قوموں سے بھی کہتے کہ ہمارے قرآن نے جب تمہیں مذہبی آزادی دی ہے اور ہم پولیٹیکل حقوق کی بناء پر نہیں بلکہ اسلام کے ایک حکم کی تعمیل میں تمہیں آزادی دیتے ہیں تو تمہارے ماتحت جو مسلمان آباد ہیں تم بھی ان کو آزادی دو اور ان کے حقوق کا خیال کرو مگر