انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 589

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸۹ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب عبادات کے متعلق دل سے یہ کہتے ہیں کہ یہ آؤٹ آف ڈیٹ (OUT OF DATE) ہیں موجودہ زمانہ میں ان کی ضرورت نہیں۔ایسا آدمی جو دل سے اسلامی احکام کی قدرو منزلت کا قائل نہیں اگر اس کے لئے یہ قانون بنا دیا جائے کہ نماز پڑھو تو وہ بے شک لوگوں کے دکھاوے کے لئے نماز تو پڑھ لے گا مگر دل میں یہی کہتا جا رہا ہوگا کہ خدا ان لوگوں کا بیڑا غرق کرے جو اس قسم کا قانون بنانے والے ہیں۔آپ لوگ اَلحَمدُ لِلهِ کہہ رہے ہوں گے اور وہ اپنے آپ پر بھی اور اس قسم کا قانون بنانے والے پر بھی لعنتیں ڈال رہا ہو گا۔پس بے شک ظاہر میں وہ نماز پڑھ لے گا مگر اس کی نماز حقیقتا نہیں ہوگی کیونکہ اصل نماز دل کی نماز ہے۔جہاں میں اس شخص کا مخالف ہوں جو کہتا ہے کہ نماز تو دل کی ہی نماز ہے ظاہری حرکات کی کیا ضرورت ہے وہاں میں اس شخص کا بھی مخالف ہوں جو صرف ظاہر میں نماز پڑھ لینا کافی سمجھتا ہے دل کے اخلاص اور دل کے سوز اور دل کی محبت کا وہ قائل نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نماز ظاہر کی بھی ہے اور دل کی بھی اور ان دونوں چیزوں کا مجموعہ انسان کیلئے برکت کا موجب ہوتا ہے اگر ہم دل میں خدا خدا کرتے ہیں مگر ظاہر میں نماز نہیں پڑھتے تو ہما را دل سے خدا خدا کہنا محض دھوکا اور فریب ہوگا کیونکہ محبوب کی بات مانا کرتے ہیں یا اس کی بات کا انکار کیا کرتے ہیں؟ عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم خدا تعالیٰ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم اپنی محبت کا کوئی ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اس نے کہا ہے سجدہ کرو مگر ہم سجدہ کرنے کیلئے تیار بھی نہیں ہوتے۔یا ظاہر میں تو نماز پڑھی جائے مگر دل خدا کی طرف متوجہ نہ ہو تو یہ بھی کوئی نماز نہیں ہوگی بلکہ محض ایک ورزش کہلائے گی۔جیسے ورزش سے سپاہی کا جسم مضبوط ہوتا ہے اسی طرح نماز سے اس کا جسم تو مضبوط ہو گا مگر اس کے دل میں نو را یمان پیدا نہیں ہوگا۔چند ماہ کی بات ہے میں سندھ گیا تو وہاں ایک ہندو مجھ سے ملنے کیلئے آیا وہ وہاں سے بھاگا نہیں تھا کیونکہ اس کے مسلمانوں سے تعلقات تھے۔میں نے اس سے کہا کہ تمہارے مسلمانوں سے دیر سے تعلقات چلے آ رہے ہیں کبھی تم نے ان کے دین پر بھی غور کیا ہے؟ وہ کہنے لگا سب مذاہب اچھی باتیں کہتے ہیں ہمارا مذہب بھی اچھا ہے اور آپ کا مذہب بھی اچھا ہے۔میں نے