انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vi of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page vi

انوار العلوم جلد ۱۹ گا ہے لگا ہے بعض اہم مسائل پر اداریے بھی لکھے۔یہ اداریے تقسیم ہند کے حوالے سے اور نئی مملکت پاکستان کے لئے راہنمائی پر مبنی تھے۔ان اداریوں کی تعداد ۲۶ ہے۔یہ تمام ادارئیے انوار العلوم کی جلد ھذا میں شامل اشاعت کئے گئے ہیں۔۱۹۴۷ء کا جلسہ سالانہ دسمبر میں لاہور میں منعقد ہوا اور اس جلسہ میں معروضی حالات کے پیش نظر صرف مرد شامل ہوئے۔مرکز احمدیت قادیان سے باہر ہونے والا یہ پہلا جلسہ سالانہ تھا۔حضور نے اس کے افتتامی خطاب میں قادیان سے اپنی والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار فرمایا اور اس میں حضور نے قادیان واپس ملنے کی توقع کا اظہار بھی فرمایا۔حضور نے جلسہ سالانہ سے اختتامی خطاب بھی فرمایا۔یہ دونوں خطابات اس جلد کی زینت ہیں۔نیز مارچ ۱۹۴۸ء میں ہونے والی شوری کے ساتھ خواتین کو بھی جلسہ سالانہ کی غرض سے شرکت کا موقع ملا۔یوں جلسہ سالانہ ۱۹۴۷ء دو حصوں میں منعقد ہوا۔اس موقع پر بھی حضور نے خطابات فرمائے جو اس جلد میں شامل ہیں۔پاکستان بننے کے بعد حضور نے پاکستان کے مختلف بڑے شہروں کے دورے کئے اور ان دوروں کے مواقع پر آپ نے ولولہ انگیز خطابات فرمائے جونئی مملکت کے قیام کے حوالہ سے اہل پاکستان کی ذمہ داریوں پر مبنی تھے وہ تمام خطابات بھی اس جلد کا حصہ ہیں۔عالمی استعماری طاقتوں نے اپنے سیاسی مصالح کی تکمیل کے لئے فلسطین کو تقسیم کر کے صیہونی ریاست کی بنیاد ۱۶ رمئی ۱۹۴۸ء کو رکھی۔حضور نے اپنی دُور بین نگاہ سے مستقبل میں پیش آمدہ حالات و واقعات اور ان کے اندوہناک نتائج کو بھانپ لیا۔چنانچہ آپ نے ایک فکر انگیز اور پر معارف مضمون اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةً کے نام سے تحریر کیا جو ا ۳ رمئی ۱۹۴۸ء کے الفضل میں شائع ہوا اور اسے ایک ٹریکٹ کی صورت میں شائع کر کے عرب ممالک میں تقسیم بھی کیا گیا جس پر عرب اخبارات نے تعریفی تبصرے بھی کئے اور عالم اسلام کے حق میں آواز اُٹھانے پر حضور کا شکر یہ بھی ادا کیا۔یہ مضمون بھی جلد ھذا کی زینت ہے۔جلد ھذا میں شامل تحریرات کے مطالعہ سے جہاں ایمان ترقی کرتا اور علم ومعرفت کے اضافے کا موجب بنتا ہے وہاں اس جلد کی تحریرات کے ذریعہ اس دور کی اہم جماعتی و سیاسی