انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 557

انوار العلوم جلد ۱۹ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہم مغربی پنجاب کے باشندے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ تمام وہ مہاجر جو مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب میں آئے ہیں اُن میں سے ہر ایک کو خواہ وہ زمیندار پیشہ ہے یا غیر زمیندار پیشہ گزارہ کیلئے کافی زمین مل جائے اور جب تک زمین نہیں ملتی اس کو کھانے کیلئے کافی غلہ اور پہنے کیلئے کافی کپڑا مل جائے لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ سکھ اور ہندو جو زمینیں چھوڑ گئے ہیں چونکہ وہ ہمارے ہمسائے تھے اس لئے وہ زمینیں کسی نہ کسی طرح ہمارے پاس ہی رہیں اور مہاجروں کو نہ ملیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہر مشرقی پنجاب کے شہری کو کوئی دکان بھی مل جائے اور کوئی کارخانہ بھی مل جائے اور جب تک اُسے دکان یا کارخانہ نہیں ملتا اسے گزارہ کیلئے کچھ رقم ملتی رہے۔مگر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ کارخانے یا وہ دکانیں جو ہندو اور سکھ چھوڑ کے گئے ہیں چونکہ وہ ہمارے ہمسائے تھے اس لئے وہ چیزیں ہمارے پاس ہی رہیں تو اچھا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں کی دکانیں جن پر ہمارے ہمسایوں نے قبضہ کر لیا ہے وہ اُن سے چھین لی جائیں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگر کوئی دکان یا کارخانہ ہمارے یا ہمارے رشتہ داروں کے پاس ہے تو گورنمنٹ وہ نہ چھینے کیونکہ آخر ہم لوگ جو اتنی مدت سے سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم سے ستائے جا رہے تھے ہمارا بھی تو اُن کے مال پر کچھ حق ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہو جائے اور حکومت کے ساتھ جتنی ترقیات آتی ہیں وہ ہم کو مل جائیں اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم چاہتے تھے کہ تبادلہ آبادی کر لیا جائے لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ تبادلہ آزادی کی وجہ سے جو لوگ اُدھر سے آئے ہیں وہ ہمارے علاقہ میں نہ بسائے جائیں کیونکہ اس طرح نئے ووٹروں کے آنے سے ہماری ممبریاں خطرے میں پڑ