انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 530

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۳۰ سیر روحانی (۴) علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی الہام ہو ا۔,, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں 4 سے اور پناہ ہمیشہ ظلمات کے وقت یعنی رات کو ہی لی جاتی ہے پس جس طرح سورہ نجم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مینار ہونا ثابت ہوتا ہے مسجد اقصیٰ میں منارہ بنانے کے یہ معنے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے پھر دوسری دفعہ مدینہ کے انصار کی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اندر پناہ دی ہے اور ہر احمدی نے آپ کی حفاظت کا اور آپ کے ارد گرد اپنی جانیں لڑا دینے کا اقرار کیا ہے جس اقرار کو پورا کرنا آج ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے۔پابندی عہد کی ایک شاندار مثال عرب لوگ تو اپنے اقرار کے اتنے پابند تھے کہ تاریخوں میں لکھا ہے سپین کا ایک رئیس تھا جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ایک دن اُس کے پاس ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ پولیس میرے تعاقب میں آ رہی ہے مجھے خدا کے لئے پناہ دو۔اُس نے اپنے مکان میں اُسے چھپا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد پولیس ایک نوجوان کی لاش اٹھا کر لائی۔یہ اس کے بیٹے کی لاش تھی۔پولیس والوں نے اُسے کہا ہمیں افسوس ہے کہ کسی بد بخت نے آج آپ کے بیٹے کو مارڈالا ہے قاتل بھاگ کر اسی طرف آیا تھا کیا آپ نے اُسے دیکھا نہیں؟ اُس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔یہ سن کر پولیس والے چلے گئے۔اُس نے اپنے بیٹے کی لاش کو کمرے میں بند کیا اور قاتل کی طرف گیا اور اسے اشارہ سے اپنے پاس بلا کر کہا کہ یہ شخص جس کو تم نے قتل کیا ہے میرا بیٹا تھا لیکن چونکہ میں تمہیں پناہ دے چکا ہوں اس لئے میں اب تمہیں کچھ نہیں کہتا اس کے بعد اُس نے اسے اپنی جیب میں سے کچھ روپے نکال کر دیئے اور کہا یہ روپے لو اور کسی اور جگہ چلے جاؤ اگر تم سپین میں ہی رہے تو ممکن ہے میرا انفس کبھی مجھے اشتعال دلائے کہ یہ میرے بیٹے کا قاتل ہے اور میں تجھے مار ڈالوں اس لئے روپے لو اور سپین سے کہیں باہر چلے جاؤ۔چنانچہ اس نے روپے دیئے اور اپنے اکلوتے بیٹے کے قاتل کو اپنے مکان کے پچھواڑے سے باہر نکال دیا۔اب دیکھو یہ ایک سچے مسلمان کی حالت تھی کہ نہ صرف وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے قاتل کی جان بچاتا ہے بلکہ اُسے بھاگنے کے لئے روپے بھی دیتا ہے اس لئے کہ اس نے اُسے پناہ دی تھی پھر کتنی بڑی