انوارالعلوم (جلد 19) — Page 529
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۹ سیر روحانی (۴) جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے مسجد اقصی کا مینار ظاہر میں اینٹوں اور چونا سے بنی ہوئی ایک جھنڈے کو کبھی نیچا نہ ہونے دے عمارت ہے لیکن تصویری زبان میں اس مینار کے ذریعہ ہم میں سے ہر شخص نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں لائے ہیں دنیا خواہ آپ کو چھوڑ دے مگر ہم آپ کو نہیں چھوڑیں گے اور ہم آپ کے دین کی اشاعت کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے یہ وہ عہد ہے جو اس منارہ بیضاء کے ذریعہ ہم میں سے ہر شخص نے کیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم مرتے دم تک اس عہد کو اپنے سامنے رکھیں اور اسلام کا جھنڈا کبھی نیچا نہ ہونے دیں۔مسجد اقصیٰ کا قرآن کریم میں ذکر حقیقت یہ ہے کہ مسجد اقصی میں منارہ بیضاء بنانے کی خبر بھی قرآن کریم میں موجود تھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِى بَرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ ايتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ٣٥ | یعنی پاک ہے وہ خدا جو راتوں رات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے ماحول کو بھی ہم نے برکت دیدی۔اقصیٰ کے معنی دُور کی مسجد کے ہیں اور رات کی تاریکی سے زمانہ کی ظلمت مراد ہے جو فیج اعوج میں پھیلی اور جس نے مسلمانوں کی بنیا دوں کو ہلا دیا۔اسی پیشگوئی کو ظاہر میں پورا کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ میں ایک مینار بنایا گیا وہ مینار ظاہر میں مٹی اور چونے کی ایک عمارت ہے مگر در حقیقت وہ اس اقرار کا ایک نشان ہے جو اس زمانہ میں ہر احمدی نے اپنی زبانِ حال سے کیا ہے۔اس مینار کے ذریعہ ہر احمدی نے اقرار کیا ہے کہ میں اس تاریکی اور ظلمت کے زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں پناہ دے رہا ہوں، آج سے میں اسلام کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں اور ایک لحہ بھی میری زندگی پر ایسا نہیں آئے گا جب میں اس فرض کو نظر انداز کر دوں۔پس منارۃ المسیح محمدیت کے ساتھ تعلق کی علامت ہے جس طرح قرآن نے کہا تھا کہ رات کے وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ چلے گئے اسی طرح حضرت مسیح موعود