انوارالعلوم (جلد 19) — Page 521
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۱ سیر روحانی (۴) غرض دَنَا فَتَدَلَّی میں وہ طریق بیان کیا روحانی ارتقاء کے غیر معمولی سامان گیا ہے جس کے ذریعہ انسانی ارواح نے ارتقاء کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بغیر اس گر کے بھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے تھے بغیر اس کے کہ آپ کی ایک نیکی کو دس گنا شمار کیا جا تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ قابلیت موجود تھی کہ آپ خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتے اور اس کے قرب کو حاصل کر لیتے مگر تمام لوگوں میں یہ قابلیت موجود نہیں تھی ان کے لئے خدا تعالیٰ نے عرش سے نیچے اُتر نا گوارا کیا اور اس نے ان کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بڑھانا شروع کیا تا کہ اس ذریعہ سے ان کی کمی پوری ہو جائے اور وہ روحانی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں اور یہ فضیلت صرف اسلام ہی کو حاصل ہے جس میں روحانی ارتقاء کے لئے ہر قسم کی سہولتیں رکھی گئی ہیں اور ترقیات کا دروازہ تمام بنی نوع انسان کے لئے یکساں کھولا گیا ہے۔خدائی کمان کا محمد رسول اللہ کی کمان سے اتصال فرماتا ہے فَكَانَ قابَ قَوْسَيْنِ او ادنی جب یہ حالت ہوئی اور خدا تعالیٰ نیچے آیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ دو قوسیں آپس میں متوازی ہوگئیں اور اونچائی نیچائی کے لحاظ سے بھی اور نشانہ کی سیدھ کے لحاظ سے بھی کہ جدھر ایک تیر چلتا تھا اُسی طرف دوسرا تیر پڑتا تھا۔یا یوں سمجھ لو کہ ایک کمان زمین سے اوپر جانی شروع ہوئی اور ایک کمان اوپر سے نیچے آنی شروع ہوئی۔خدا تعالیٰ کی کمان اوپر سے نیچے اُتری اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان نیچے سے او پر گئی چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں جو انقلاب پیدا کیا جانا مقدر تھا وہ ایسا تھا جس میں شیطان کا شکست کھانا یقینی تھا اس لئے لازمی تھا کہ آپ کے ظہور پر شیطان کا لشکر اپنی پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوتا۔اللہ تعالیٰ اسی حملہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اپنی کمان لے کر اوپر آؤ ہم اپنی کمان لے کر نیچے اُترتے ہیں۔یہ ایک روحانی استعارہ ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں اُوپر چڑھنی شروع ہوئیں اور خدا تعالیٰ کی قبولیت نیچے اُترنی شروع ہوئی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی اور ایسی بن گئیں جیسے دو کمانوں کو ساتھ ساتھ ملا دیا جائے یا دو کمانیں آپس میں جوڑ دی