انوارالعلوم (جلد 19) — Page 522
انوارالعلوم جلد ۱۹ ۵۲۲ سیر روحانی (۴) جائیں تو جو کیفیت ان کی ہوتی ہے وہی کیفیت اس اتحاد کی تھی او اذنی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ دو کمانیں رہی ہی نہیں ایک بن گئیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان کا خدا تعالیٰ کی کمان کے ساتھ ایسا اتحاد ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمان کوئی الگ نہیں رہی وہ وہی تھی جو خدا تعالیٰ کی تھی گویا آسمان اور زمین کا مقصد ایک ہو گیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اتباع نے ارادے چھوڑ کر خدا کے ارادے قبول کر لئے اور خدا نے اپنے ارادے چھوڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اتباع کے ارادے قبول کر لئے۔تمہارے ارادے خدا تعالیٰ کے اس نکتہ کواللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ یوں بیان فرماتا ہے کہ وَمَا تَشَاءُ وُنَ إِلَّا أَنْ يَّشَاءَ ارادوں کے تابع ہونے چاہئیں اللهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا على یعنی اے مسلمانو ! آج سے تم یہ عہد کر لو کہ تمہارے دل میں کوئی خواہش پیدا نہ ہو جب تک کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی بھی وہی خواہش ہے۔گویا تمہارا ارادہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے اور تمہاری خواہش خدا تعالیٰ کی خواہش سے مل جائے اور کسی امر میں بھی تمہاری نفسانیت کا کوئی دخل نہ رہے۔چنانچہ دیکھ لو ہجرت کے موقع پر صحابہ نے بڑا ز ور لگایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ سے مدینہ تشریف لے چلیں مگر باوجود اس کے کہ اس وقت سب سے زیادہ خطرناک مقام مکہ تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی ہجرت کا حکم نہیں ہوا گویا جو کچھ خدا تعالیٰ کی مشیت تھی اُس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلے گئے۔پس جو کچھ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْادْنی میں مضمون بیان کیا گیا ہے وہی مضمون وَمَا تَشَاءُ وُنَ إِلَّا اَنْ يَّشَاءَ اللہ میں بیان کیا گیا ہے خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے دیا کہ تم اپنی کمان پھینک دو اور میری کمان لے لومیں بھی اپنی کمان پھینکتا ہوں اور تمہاری کمان اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہوں۔محمد رسول اللہ کے دشمن آسمانی تیروں کی زد میں ایک اور جگہ بھی قرآن کریم میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا رَمَيْتَ اِذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى ۲۸