انوارالعلوم (جلد 19) — Page 508
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۰۸ سیر روحانی (۴) دُور کرنا تھا اور اسلام کا نور دنیا میں پھیلانا تھا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو النجم کہا ہے جس کے معنے ثریا کے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے ہیں کہ أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ 19 میرے سب صحابہ نجوم کی مانند ہیں۔پس اس حدیث نے اس طرف اشارہ کر دیا کہ مسیح موعود بھی صحابہ میں سے ہوگا اور وہ بھی آپ کے شاگردوں اور غلاموں میں شامل ہوگا۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے مطابق تمام اہم امور کا فیصلہ آسمان پر ہوتا ہے تمام بڑے اور اہم کام آسمان سے ہی ظاہر ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی بڑا تغیر رونما ہونے والا ہوتا ہے تو اس کے متعلق پہلا فیصلہ آسمان پر ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کا زمین پر ظہور ہوتا ہے۔حدیثوں میں صاف طور پر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب کوئی بڑا کام کرنا ہوتا ہے تو پہلے وہ اپنے مقرب فرشتوں کو بتاتا ہے کہ میرا یہ ارادہ ہے۔وہ فرشتے اپنے سے نچلے طبقہ کے فرشتوں کو اطلاع دیتے ہیں وہ اپنے سے نچلے طبقہ کے فرشتوں کو اطلاع دیتے ہیں یہاں تک کہ ہوتے ہوتے اُس کا دنیا میں ظہور شروع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ کے متعلق چاہتا ہے اُس کی مقبولیت کو دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔غرض جتنے بڑے کام ہوتے ہیں سب آسمان پر ہوتے ہیں زمین پر نہیں ہوتے۔صرف زمین پر تغیرات ہونے کا عقیدہ ان لوگوں کا ہے جو دہر یہ ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کے ماننے والے تو جانتے ہیں کہ ہر بات کا فیصلہ پہلے آسمان پر ہوتا ہے اور پھر اس کا زمین پر ظہور ہوتا ہے گویا اگر ہم تمثیلی زبان اختیار کریں اور دنیا کو ایک تھیٹر کا ہال سمجھ لیں تو ڈرامہ آسمان پر لکھا جاتا ہے اور کھیل دنیا کے پردہ پر کھیلا جاتا ہے جب تک آسمان پر کوئی ڈرامہ نہیں لکھا جا تا زمین پر وہ کھیل نہیں کھیلی جاتی۔میں سمجھتا ہوں اس محمد رسول اللہ اور مسیح موعود بھی آسمان سے ہی نازل ہوئے ہیں بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں کو غلطی لگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آنے والا مسیح آسمان سے اُترے گا اسے اور قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ وَالنَّجْمِ اِذَاهَوی ایک ستارہ آسمان سے اُترے